گروپ I امتحانات کی منسوخی پر چیف منسٹر کے سی آر سے استعفیٰ کا مطالبہ

   

کمیشن شفاف امتحانات کے انعقاد میں ناکام، کاماریڈی کے مواضعات میں محمد علی شبیر کی پدیاترا

حیدرآباد۔/24 ستمبر، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے پبلک سرویس کمیشن کے گروپ I پریلمس امتحانات کی منسوخی سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے امتحانات کے انعقاد میں بے قاعدگیوں پر کمیشن کے تمام ارکان اور عہدیداروں کی معطلی کا مطالبہ کیا۔ محمد علی شبیر نے آج کاماریڈی کے مختلف مواضعات کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کی اور کانگریس کی جانب سے اعلان کردہ 6 ضمانتوں کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ محمد علی شبیر نے مقامی کانگریس قائدین کے ہمراہ پدیاترا کی اور جگہ جگہ ان کا استقبال کیا گیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ گروپ I امتحانات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں ہائی کورٹ نے امتحانات منسوخ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن شفاف امتحانات کے انعقاد میں ناکام ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری مرتبہ گروپ I امتحانات کی منسوخی کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر کو مستعفی ہوجانا چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جارہا ہے جو گذشتہ 9 برسوں سے امتحانات کے انتظار میں ہیں اور انہوں نے کوچنگ حاصل کی۔ محمد علی شبیر نے تمام امیدواروں کو فی کس 2 لاکھ روپئے معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر کو اپنی خاموشی توڑتے ہوئے عوام سے معذرت خواہی کرنی چاہیئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس برسراقتدار آتے ہی 100 دن میں تمام 6 ضمانتوں پر عمل آوری کو یقینی بنائے گی۔ غریبوں کو پکوان گیس سلینڈر 500 روپئے میں سربراہ کیا جائے گا اور نوجوانوں کو تعلیم کے حصول کیلئے 5 لاکھ روپئے کی مدد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔