آج دوبارہ سماعت ہوگی، تقررات کی اجازت دینے پبلک سرویس کمیشن کی درخواست
حیدرآباد۔/30 اپریل، ( سیاست نیوز) کارگذار چیف جسٹس سوجئے پال کی زیر قیادت بنچ نے گروپ I جائیدادوں پر تقررات پر سنگل جج کی جانب سے عارضی حکم التواء کی برخواستگی سے انکار کردیا۔ گروپ I جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں ہائی کورٹ کے سنگل جج نے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ تقررات کا عمل عارضی طور پر روک دیا جائے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے سنگل جج کے حکم التواء کے خلاف ڈیویژن بنچ پر درخواست دائر کی تھی جس کی آج کارگذار چیف جسٹس نے سماعت کی۔ انہوں نے سنگل جج کے احکامات میں کسی بھی مداخلت سے انکار کردیا اور آئندہ سماعت جمعرات کو مقرر کی ہے۔ گروپ I مینس امتحانات میں امیدواروں کے انتخاب میں مبینہ بے قاعدگیوں کی شکایت پر سنگل جج نے عبوری احکامات جاری کئے تھے۔ امیدواروں نے شکایت کی کہ امتحانی مراکز کے الاٹمنٹ کے سلسلہ میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔ جسٹس این راج شیکھر ریڈی نے حکومت کو ہدایت دی کہ گروپ I تقررات کے احکامات حوالے کرنے کا کام روک دیا جائے تاہم انہوں نے سرٹیفکیٹس کی جانچ جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے ڈیویژن بنچ سے درخواست کی کہ سنگل بنچ کے احکامات پر روک لگائی جائے۔ کارگذار چیف جسٹس نے فوری مداخلت سے انکار کرتے ہوئے اس معاملہ کی سماعت جمعرات کو مقرر کی ہے۔ پبلک سرویس کمیشن کا دعویٰ ہے کہ امتحانات کے انعقاد میں کوئی بے قاعدگی نہیں ہوئی ہے۔ تلنگانہ میں پہلی مرتبہ 2022 میں گروپ I نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں 503 جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اکٹوبر 2022 اور اگسٹ 2023 میں دو مرتبہ پریلمس امتحانات منعقد کئے گئے۔ ایک مرتبہ امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے نتیجہ میں امتحان ملتوی کیا گیا جبکہ دوسری مرتبہ بائیو میٹرک مسئلہ پر امتحان ملتوی کردیا گیا۔ 19 فروری 2024 کو کانگریس حکومت نے 563 گروپ I جائیدادوں کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا اور امتحانات کی تکمیل کے بعد احکامات تقرر حوالے کرنے کے مرحلہ پر امیدوار ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔1