سنگل جج کے فیصلہ کیخلاف اپیل مسترد، امتحان میں شرائط کی خلاف ورزی پر ڈیویژن بنچ کی برہمی
حیدرآباد۔/27 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے گروپI امتحانات کی منسوخی سے متعلق سنگل جج کے احکامات کو برقرار رکھا ہے۔ ہائی کورٹ کی ڈیویژن بنچ جسٹس ابھینند کمار شاولی اور جسٹس جے انیل کمار نے سنگل جج کے فیصلہ کے خلاف تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی اپیل کو مسترد کردیا۔ بنچ کا کہنا تھا کہ پبلک سرویس کمیشن جو ایک دستوری ادارہ ہے وہ امتحانات کے انعقاد کے سلسلہ میں خود اپنے احکامات پر عمل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ امتحانات کے سلسلہ میں بائیو میٹرک سسٹم پر عمل آوری کی اپنی شرائط پر عمل نہیں کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ امتحانات سے متعلق ہدایات پر امیدواروں کے ساتھ ساتھ امتحان منعقد کرنے والے ادارہ کو بھی عمل کرنا چاہیئے۔ پبلک سرویس کمیشن کو ہائی کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی اور اس کے پاس سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا موقع باقی ہے۔ واضح رہے کہ امیدواروں نے ہائی کورٹ میں شکایت کی تھی کہ پبلک سرویس کمیشن نے بائیو میٹرک سسٹم پر عمل نہیں کیا جبکہ گذشتہ سال اکٹوبر میں منعقدہ امتحان میں عمل کیا گیا تھا۔ امتحانی پرچوں کے افشاء کے بعد پہلے امتحان کو ملتوی کردیا گیا اور 11 جون کو دوسری مرتبہ امتحان منعقد ہوا۔ امیدواروں کی درخواست کی سماعت کے بعد سنگل جج نے امتحانات کی منسوخی کی ہدایت دی۔ ڈیویژن بنچ نے پبلک سرویس کمیشن سے وضاحت طلب کی تھی کہ بائیو میٹرک سسٹم کے بارے میں آج رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے پبلک سرویس کمیشن کے رویہ پر برہمی ظاہر کی۔ عدالت نے سوال کیا کہ جب امتحانات کے نوٹیفکیشن میں بائیو میٹرک سسٹم کا تذکرہ ہے تو پھر امتحان کے وقت عمل کیوں نہیں کیا گیا۔ کمیشن کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ امتحانات کی منسوخی کی صورت میں 2 لاکھ سے زائد طلبہ کا نقصان ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن کی غلطی سے 233506 امیدواروں کا مستقبل داؤ پر ہے اور کمیشن کا وقار مجروح ہوا ہے۔ ڈیویژن بنچ نے سنگل جج کے فیصلہ کو برقرار رکھا ہے۔ بنچ نے کہا کہ سنگل جج نے امتحانات کی منسوخی کا جو فیصلہ کیا وہ درست ہے۔ عدالت نے کہا کہ گروپ I پریلمس امتحانات کا دوبارہ انعقاد عمل میں لایا جائے۔ امیدواروں سے ہائی کورٹ سے شکایت کی تھی کہ امتحانات میں ہال ٹکٹ نمبر کے بغیر ہی OMR شیٹ فراہم کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ بیروزگار نوجوانوں کی زندگی سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے کہا کہ روزگار سے محروم نوجوان مایوسی کے عالم میں خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ عدالت نے سنگل جج کے فیصلہ کو برقرار ر کھتے ہوئے دوبارہ امتحانات کے انعقاد کی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ سے مایوسی کے بعد تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے پاس واحد راستہ سپریم کورٹ ہے جہاں ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ پبلک سرویس کمیشن کے تمام امتحانات میں کوئی نہ کوئی تنازعہ پیدا ہوا ہے۔
گروپ I امتحانات پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کا کانگریس نے خیرمقدم کیاحیدرآباد۔/27 ستمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے گروپ I پریلمس امتحانات کی منسوخی سے متعلق فیصلہ پر خیرمقدم کیا ہے۔ تشہیری کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات کے انعقاد میں بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں ہائی کورٹ نے امتحانات منسوخ کرنے کی ہدایت دی اور سنگل جج کے فیصلہ کو ڈیویژن بنچ نے برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور کے ٹی آر نوجوانوں کی زندگی سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ تلنگانہ میں 12 مختلف امتحانات کے پرچہ جات کا افشاء ہوا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا لالچ دے کر دھوکہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ امتحانات کے انعقاد کے وقت امیدواروں کو عمر کی حد میں مزید رعایت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا مرکز بن چکا ہے لہذا کمیشن کے ارکان کو فوری برطرف کیا جائے۔