گروگرام میں 8 مقامات پر نماز پڑھنے کی اجازت منسوخ

   

اکثریتی برادری کے احتجاج پر اقدام، بات چیت کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے کا تیقن

نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی سے متصل گروگرام میں ضلع انتظامیہ نے 37 میں سے آٹھ مقامات پر نماز ادا کرنے والے حکم کو واپس لے لیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک سرکاری بیان کے مطابق یہ اجازت مقامی لوگوں اور آر ڈبلیو اے کے اعتراض کے بعد منسوخ کر دی گئی ہے۔جن آٹھ مقامات سے نماز ادا کرنے والے حکم کو واپس لیا گیا ہے ان میں سیکٹر 49 میں بنگالی بستی، ڈی ایل ایف فیز 3 کا وی بلاک، سورت نگر فیز 1، کھرکی ماجرا گاؤں کے مضافات، دوارکا ایکسپریس وے کے قریب دولت آباد گاؤں کے بیرونی علاقے ،رام گڑھ گاؤں کے قریب، ڈی ایل ایف اسکوائر ٹاور کے قریب اور رام پور گاؤں سے نکھرولا روڈ تک شامل ہیں۔گروگرام انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عوامی اور کھلی جگہوں پر نماز ادا کرنے کے لیے انتظامیہ کی اجازت لازمی ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ نماز کسی بھی مسجد، عیدگاہ یا کسی بھی نجی یا مخصوص جگہ پر ادا کی جاسکتی ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ اگر مقامی لوگوں کو دوسری جگہوں پر بھی اعتراض ہے تو انہیں وہاں بھی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ضلع انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ گروگرام کے ڈپٹی کمشنر یش گرگ کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس مسئلے پر بات چیت کرے گی اور مستقبل میں نماز پڑھنے کے لیے جگہوں کی نشاندہی کرے گی۔ کمیٹی میں ایک سب ڈویڑنل مجسٹریٹ، ایک اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس اور مذہبی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہیں۔کمیٹی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے دونوں برادریوں کے ساتھ بات چیت کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مقامی باشندوں کو اس علاقے میں نماز پڑھنے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کمیٹی اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ نماز کسی سڑک، چوک یا عوامی جگہ پر نہ پڑھی جائے۔ اس کے علاوہ کمیٹی نماز پڑھنے کے لیے جگہ کا فیصلہ کرتے ہوئے مقامی لوگوں کی رضامندی لے گی۔