نئی دہلی، یکم جنوری (آئی اے این ایس) گرو دیوکنندن ٹھاکر نے آئندہ آئی پی ایل سیزن کے لیے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمن کو خریدنے پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) فرنچائز کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) اور اس کے شریک مالک، بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان پر تنقید کرتے ہوئے ایک سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے بیانات پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ملے جلے ردِعمل سامنے آئے ہیں، تاہم زیادہ تر رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ کھیل کو سیاست اور سفارتی معاملات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔ خبر رساں ادارے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے دیوکنندن ٹھاکر نے کے کے آر اور شاہ رخ خان پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ مظالم کو نظراندازکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور سناتن دھرم کے پیروکار، جنہوں نے اداکارکو اسٹار بنانے میں کردار ادا کیا، اس فیصلے سے شدید ناراض ہیں کہ پڑوسی ملک میں ہندوؤں پر مظالم کی خبروں کے باوجود ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو ہندوستانی ایونٹ میں شامل کیا گیا۔ ٹھاکر نے کہا سناتن کے بھکت اور ہندو یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس بات کا خیال رکھے بغیرکہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو قتل کیا جا رہا ہے، زندہ جلایا جا رہا ہے اور لڑکیوں پر حملے ہو رہے ہیں، ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی کو ہندوستانی ایونٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیشی کھلاڑی کو خریدنے پر خرچ کی گئی رقم ہندوستان کی ترقی یا بنگلہ دیش میں مارے گئے افراد کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینے کے لیے استعمال کی جانی چاہیے تھی۔ اس تنازعہ پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے ترجمان محمد اقبال ترمبو نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جہاں کہیں بھی ہوں، مذمت ہونی چاہیے، لیکن کھیل کو سیاست کے ساتھ ملانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ترمبو نے کہا جہاں کہیں بھی کسی بھی ملک میں اقلیتوں پر ظلم ہوتا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ چاہے بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم ہوں یا کہیں اور اقلیتوں پر جبر، ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں اور ان کی سخت مذمت ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا، جہاں تک کھیل کا تعلق ہے، اگرکھیل اور سیاست الگ رہیں تو معاملات بہتر طریقے سے چلتے رہیں گے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہر ملک میں اقلیتوں کا تحفظ کیا جائے اور ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ کانگریس رہنما طارق انور نے بھی اس تنازعہ کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ کھیل کو سیاسی یا سفارتی کشیدگی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا مجھے اس معاملے کا پس منظر معلوم نہیں، لیکن کھیل کو الگ رکھا جانا چاہیے۔ اس طرح کی بحثیں پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں، بشمول بیرونِ ملک دوروں کے دوران۔ چاہے کھلاڑی کسی دوسرے ملک سے ہو یاکوئی فلمی ستارہ ہو، ان معاملات میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
