گریجویٹ ایم ایل سی انتخابات ، ٹی آر ایس امیدواروں کی کامیابی آسان نہیں

   

دباک اسمبلی اور جی ایچ ایم سی انتخابی نتائج سے بی جے پی بہتر متبادل کے طور پر ، ٹی آر ایس متفکر
حیدرآباد۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کی نشست برائے گریجویٹ حیدرآباد۔رنگاریڈی ۔ محبوب نگر اور دوسری نشست کھمم۔ورنگل ۔نلگنڈہ سے تلنگانہ راشٹرسمیتی امیدواروں کی کامیابی آسان نہیں ہے۔ دباک حلقہ اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کے بعد مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابی نتائج سے یہ بات واضح ہونے لگی ہے کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی بہتر متبادل بن کر ابھر رہی ہے اور ٹی آر ایس کو اس بات کا احسا س ہونے لگا ہے کہ ریاست میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کا گراف گرنے لگا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے دباک ضمنی انتخابات کے علاوہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں حاصل کی جانے والی کامیابی کے سبب بی جے پی کارکنوں اور قائدین میں کافی حوصلہ ہے اور کونسل کی دونوں نشستوں کے لئے ہونے والی رائے دہی کے دوران تلنگانہ راشٹرسمیتی کو سہ رخی مقابلہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حیدرآباد۔ رنگا ریڈی ۔ محبوب نگر کی کونسل کی نشست پر ٹی آر ایس نے نرسمہا راؤ کی دختر وانی دیوی کو امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ہے اور ان کا مقابلہ موجودہ رکن قانون ساز کونسل مسٹر این رامچندر کے علاوہ سابق وزیر جی چنا ریڈی کانگریس امیدوار سے ہے ان دو امیدواروں کے ساتھ میدان میں پروفیسر ناگیشور راؤ بھی میدان میں ہیں جو سابق میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے اس نشست پر کامیابی حاصل کرچکے ہیں لیکن تلنگانہ راشٹر سمیتی کو اب تک اس نشست پر کامیابی حاصل نہیں ہوپائی ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے کئی سرکردہ قائدین بشمول ریاستی وزراء کی جانب سے گریجویٹ حلقوں میں انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے اور گریجویٹ رائے دہندوں کو راغب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کھمم۔ورنگل۔ نلگنڈہ کی نشست پر تلنگانہ راشٹر سمیتی امیدوار پلے راجیشور ریڈی کو پروفیسر کوڈنڈا رام ریڈی سے مقابلہ درپیش ہے علاوہ ازیں ان کے مقابلہ میں کانگریس کے امیدوار راملو نائک سے بھی مقابلہ ہے ۔ دونوں نشستوں پر مخالف حکومت لہر گریجویٹ رائے دہندوں میں پائی جا رہی ہے اور بے روزگار نوجوانوں کے علاوہ سرکاری ملازمین‘ اساتذہ ‘ تعلیم یافتہ طبقہ جو ملازمتوں سے محروم ہے وہ بھی حکومت کے خلاف ہیں اسی لئے کھمم۔ ورنگل ۔نلگنڈہ میں پروفیسر کوڈنڈا رام سے بھی ٹی آر ایس رکن قانون ساز کونسل کو سخت مقابلہ ہے جبکہ حیدرآباد۔رنگا ریڈی ۔ محبوب نگر نشست پر بھی ٹی آر ایس کو سہ رخی مقابلہ درپیش ہے۔