گریجویٹ ایم ایل سی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کا الزام

   

الیکشن کمیشن سے کانگریس کی شکایت، اتم کمار ریڈی اور دیگر قائدین نے تفصیلات پیش کیں

حیدرآباد۔ پردیش کانگریس کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ گریجویٹ ایم ایل سی نشستوں کی رائے دہی کے موقع پر برسراقتدار پارٹی نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کی قیادت میں کانگریس قائدین کے وفد نے چیف الیکٹورل آفیسر ششانک گوئل سے ملاقات کی اور برسراقتدار پارٹی کی انتخابی بے قاعدگیوں سے واقف کرایا۔ رائے دہی کے موقع پر ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے برسرعام رقومات کی تقسیم کے معاملات منظر عام پر آئے ہیں جبکہ انتخابی مہم کے دوران وزراء اور عوامی نمائندوں نے انتخابی ضابطہ اخلاق کو نظرانداز کردیا۔ اتم کمار ریڈی، ایم ششی دھر ریڈی، انجن کمار یادو، جی نرنجن، فیروز خاں اور دیگر قائدین نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس قائدین نے رائے دہندوں کو لالچ دینے کیلئے کئی حربے استعمال کئے۔ برسراقتدار پارٹی نے رائے دہندوں میں کروڑہا روپئے کی تقسیم عمل میں لائی ہے۔ خانگی اسکولوں کی بسوں کو رائے دہندوں کی منتقلی کیلئے جبراً حاصل کرلیا گیا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ چیف الیکٹورل آفیسر کو انتخابی بے قاعدگیوں کی تفصیلات سے واقف کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور انتخابی عملے کو پوسٹل بیالٹ کی جو سہولت دی گئی تھی اس کا ٹی آر ایس کے حق میں استعمال کیا گیا۔ اتم کمار ریڈی نے اخبارات کیلئے بڑے اشتہارات کی اجرائی کا حوالہ دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے خواہش کی کہ ٹی آر ایس سے وضاحت طلب کریں۔ انہوں نے پی وی نرسمہا راؤ کی تصویر اشتہارات میں استعمال کرنے پر اعتراض کیا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ نرسمہا راؤ تادم آخر کانگریس کے قائد رہے لیکن ٹی آر ایس ان کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے عوامی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ نرسمہا راؤ جس وقت زندہ تھے کے سی آر نے ان کے خلاف اہانت آمیز زبان کا استعمال کیا تھا۔ اتم کمار ریڈی کے مطابق چیف الیکٹورل آفیسر نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملات کی جانچ کا تیقن دیا۔