دنیا بارود کے ڈھیر پر
پروین کمال
گرین لینڈ براعظم یوروپ اور شمالی امریکہ کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کی آبادی کم و بیش 60 ہزار نفوس پر مشتمل ہے ۔ گرین لینڈ کا نام سنتے ہی ایک خوبصورت جنت اراضی کا تصور ذ ہن میں آتا ہے، جہاں ہر طرف سبزہ زار پھیلے ہوں گے اور زمین تک نظر نہیں آتی ہوگی لیکن دراصل ایسا نہیں ہے ۔ جزیدہ کی سیر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں تو صرف 20 فیصد سبزہ زار ہیں ۔ باقی 80 فیصد حصہ برف کی دبیز چادروں سے ڈھکا ہوا ہے ۔ سرخ سرخ چھتوں پر جمی ہوئی سفید برف بہت ہی خوبصورت سماں پیش کرتی ہے ۔ برفیلی پہاڑیوں کی خوبصورتی جن کو الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل ہے ۔ ہر طرف قدرتی نظارے بکھرے ہوئے ہیں جو سیاحوں کو اپنا گرویدہ بنالیتے ہیں ۔ ہر سال موسم گرما میں یہاں سیاحوں کا ہجوم لگا رہتا ہے ۔ دراصل یہ جزیدہ صدیوں قبل وجود میں آیا تھا ، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے بعد یوروپ کے ایک ملک Norway کی عوام نے اس طرف کا رخ کیا اور یہاں آہستہ آہستہ بستیاں قائم ہونے لگیں اور ان کی آبادی دن بہ دن بڑھتی گئی ۔ تب گرین لینڈ کو ناروے میں شامل کرلیا گیا ۔ پھر برسوں بعد ناروے نے ڈنمارک سے بہت سارے معاہدات طئے کر کے اسے ڈنمارک کے حوالے کردیا جس نے اس جزیرہ کو ایک ریاست کا درجہ دے کر اپنے ملک میں شامل کرلیا ۔ وقت گزرتا رہا اور پھر گرین لینڈ کی عوام نے ڈنمارک سے اپنی آزادی کا مطالبہ کرنا شروع کردیا ۔ کافی جدوجہد کے بعد انہیں آز ادی تو ملی لیکن کچھ ادھوی سی تھی ۔ آج بھی بہت سارے معاملات حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ دنیا بھر میں اس کے تذکرے چل رہے ہیں ۔ نشر و اشاعت کے ذرائع اس جزیدہ کی سیاسی ، معاشی اور جغرافیائی حیثیت کو واضح کرنے کی تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس جزیرہ کو اتنی شہرت کیوں مل رہی ہے ۔ یہ سب کچھ دنیا جان چکی ہے کہ یہ خوبصورت جزیرہ اب امریکہ کی نظر میں آگیا ہے ۔ صدر ٹرمپ جب دوسری بار اقتدار پر آئے ہیں ، تب ہی سے وہ گرین لینڈ کو امریکی ریاستوں میں شامل کرنے کی پلاننگ کر رہے ہیں کیونکہ اول تو شمالی امریکہ کے بہت قریب ہے ۔ دوسرے یہ کہ امریکہ کو ا پنے دفاعی نظام کیلئے ا یک محفوط مقام چاہئے تھا جو روس اور چین کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ضروری تھا ۔ علاوہ اس کے اس جزیرہ کی معدتی دولت بھی پرکشش ہے ۔ یوروپ کے بڑے بڑے ممالک بھی اس جزیرہ کو لینے کے لئے انتظار گاہ میں ہیں ۔ لہذا اب اس کی قیمت لگائی جارہی ہے۔ سب سے زیادہ امریکہ اس کو خریدنے پر بضد ہے یا پھر جنگ ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ گرین لینڈ قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے ۔ اس لئے ہر ملک جزیرہ کو خرینے کیلئے پرجوش ہے ۔ امریکہ کی طرف سے جب گرین لینڈ خریدنے کا آفر دیا گیا تو ڈنمارک حکومت نے رد کردیا چونکہ گرین لینڈ ابھی تک ڈنمارک کی سرپرستی میں ہے اور اس کی اجازت کے بغیر یہ معاملہ طئے نہیں ہوسکتا ۔ اب یہ بات دوسری ہے کہ امریکہ کی طرف سے کوئی کارروائی کی جائے جس کا اشارہ ان کی طرف سے دیا جارہا ہے تو پھر حالات کا رخ بدل سکتا ہے اور دنیا ایک مہیب خطرہ کی زد میں آسکتی ہے ۔ ان حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس وقت امریکی حکومت گرین لینڈ کو اپنے قبضہ میں لینے کیلئے سرگرداں ہے ۔ صدر امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس جزیدہ کو ہر قیمت پر حاصل کرکے رہیں گے ۔ دوسری طرف حکومت ڈنمارک اسے کسی قیمت پر دینے کیلئے تیار نہیں ۔ گرین لینڈ کے عوام بھی کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کسی کے کنٹرول میں رہنا نہیں ہے ۔ ہم آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ آزادی تو واقعی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے ۔ سن (1215) میں “Mognachorta” مگنا کارٹا جو ایک آزادی کا منشور ہے ۔ انگریزوں نے بادشاہ ’’جان‘‘ سے کافی جدوجہد کے بعد لیا تھا جس کی رو سے انہیں شخصی اور سیاسی آزادی ملی تھی اور یہ منشور آہستہ آہستہ دنیا میں پھیلتا گیا لیکن عملاً اس پر کام ہو نہ سکا۔ وہ صرف ایک منشور کی حیثیت سے ہی رہا ۔ غرض امریکہ اور ڈنمارک کی رسہ کشی میں کس کی جیت ہوگی ۔ کہا نہیں جاسکتا۔ فی الحال تو تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکہ کی طرف سے جنگ کا امکان ہے ۔ اگرچہ امریکہ کے صدر ایک امن پسند شخصیت ہیں جیسا کہ انہوں نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ اس سال کا ’’امن نوبل پرائیز‘ یقیناً انہیں ہی ملنا چاہئے کیونکہ دنیا کے آٹھ ملکوں میں انہوں نے جنگ بندی کروائی ہے اور یہ سب کچھ انہوں نے دوبارہ اقتدار پر آنے کے بعد کیا ہے ۔ یعنی ایک سال سے بھی کم عرصہ میں واقعی دنیا کی تاریخ میں یہ ایک بہت بڑا ریکارڈ ہے لیکن اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہی شخصیت اس وقت جنگ پر کیوں آمادہ ہے ۔ امن قائم کرنے والے جنگی حملوں کی تیاریاں کیوں کر رہے ہیں۔ دنیاے آج تک اس خوش فہمی میں ہے کہ ہم آزاد اور خود مختار ہیں لیکن وقت وہیں ٹھہرا ہوا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا ۔ ابھی تک تو آزادی اور خود مختاری کا نام ہی سننے کو مل رہا ہے ۔ وہ سارے قانون سرد خانوں میں پڑے جم گئے ہیں ۔ ٹوٹے بکھرے تعلقات دوبارہ استوار کرنا مقصد ہے ۔ آج کی دنیا اب اس نظریئے کو سمجھنے کے قابل ہے کہ متحدہ قومیں دنیا کو ترقی دلاسکتی ہیں لیکن ان باتوں کو سن کر کوئی بھی عمل کی طرف راغب نہیں ہوتا ۔ غرض اگر جنگ ہوئی تو دوسری عالمی جنگ سے زیادہ تباہی اور بربادی کا سامنا دنیا کو کرنا پڑے گا کیونکہ اس وقت کی ٹکنالوجی کے مقابلے میں آج کی ٹکنالوجی کئی گنا پاور فل ہے ۔ یہی اس کا انجام ہے۔