گرین لینڈ اور ڈنمارک میں احتجاجی مظاہرے

   

Ferty9 Clinic

کوپن ہیگن، 18 جنوری (یو این آئی) گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے سے متعلق امریکی کوششوں اور بیانات کے خلاف ڈنمارک اور گرین لینڈ کے کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن کے ‘سٹی ہال اسکوائر’ میں ہفتہ کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 12 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے ) لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جس نے امریکی سفارت خانے تک مارچ کیا۔ اس مظاہرے میں ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں کے شہری شریک تھے ۔ ان کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھے ۔اسی دوران گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں بھی دوپہر سے ہی لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے اور ‘گرین لینڈ والوں کا ہے ‘ گرین لینڈ گرین’ کے نعرے لگائے گئے ۔ اس مظاہرے میں گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس-فریڈرک نیلسن بھی شریک ہوئے ۔ مظاہرین نے روایتی اِنُوئٹ گیت گائے اور کئی افراد نے ”میک امریکہ گو اوے ‘ (امریکہ کو واپس بھیجو) تحریر والی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔ان مظاہروں کے دوران امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکہ یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے ، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے درآمد ہونے والے تمام سامان پر 10 فیصد درآمدی محصول عائد کرے گا۔ مسٹر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر گرین لینڈ کی خریداری سے متعلق کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یکم جون سے اس محصول کو بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔

گرین لینڈ پر کشیدگی میں اضافہ،ڈنمارک اور دیگر ممالک کو دھمکیو ں کے بعد اہم قدم
یوروپی یونین نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدہ روک دیا

برسلز: 18 جنوری (یو این آئی) گرین لینڈ کے معاملے پر امریکہ اور یوروپی یونین(ای یو) کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یوروپی یونین نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ یوروپی یونین نے یہ قدم ڈنمارک اور یوروپی یونین کے کئی دیگر ممالک پر امریکہ کی جانب سے درآمدی ڈیوٹی لگانے کی دھمکی کے بعد اٹھایا ہے ۔ یوروپی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ یہ درآمدی ڈیوٹی یوروپی یونین اور امریکہ کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت ایسے اصول ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ قابل ذکر ہے کہ جولائی 2025 میں مجوزہ اس معاہدے کو درآمدی ڈیوٹی کم کرنے اور دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم، گرین لینڈ پر صدر ٹرمپ کے مؤقف اور درآمدی ڈیوٹی لگانے کی دھمکی کے بعد یوروپی یونین نے اس معاہدے کی منظوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے ‘ٹرتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں دھمکی دی ہے کہ اگر گرین لینڈ کو ‘مکمل طور پر’ امریکہ کو فروخت نہیں کیا جاتا، تو یکم فروری 2026 سے ڈنمارک، ناروے ، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کر دی جائے گی، جو یکم جون سے بڑھ کر 25 فیصد ہو جائے گی۔ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے اسٹریٹجک محل وقوع اور معدنی وسائل کو ‘امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم’ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا، ”یکم فروری 2026 سے ، مذکورہ بالا تمام ممالک کی جانب سے امریکہ بھیجے جانے والے تمام سامان پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی لی جائے گی۔ یکم جون 2026 کو یہ ڈیوٹی بڑھا کر 25 فیصد کر دی جائے گی۔ یہ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک گرین لینڈ کی خریداری کا معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔” یوروپین پیپلز پارٹی کے نائب صدر سگفرائیڈ مورسن اور دیگر یوروپی حکام نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعلان اس استحکام کو کمزور کرتا ہے جسے یقینی بنانے کے لیے یہ تجارتی معاہدہ کیا گیا تھا۔ مسٹر مورسن نے کہا، ”گزشتہ سال امریکہ اور یوروپی یونین کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کا واحد فائدہ استحکام تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے یوروپی یونین کے کئی رکن ممالک پر نئی درآمدی ڈیوٹی لگانے کے آج کے اعلان نے اس استحکام کو چھین لیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس تجارتی معاہدے کی توثیق کو ملتوی کرنا مناسب ہے ۔” انہوں نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا، ”ہمیں گزشتہ جولائی کے ای یو-یو ایس تجارتی معاہدے کی جلد ہی منظوری دینی تھی، جس سے امریکہ سے یوروپی یونین میں ہونے والی درآمدات پر ڈیوٹی ختم ہو جاتی۔ تاہم، حالیہ واقعات کے پیش نظر اس منظوری کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا۔” امریکی صدر قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کو حاصل کرنے پر بضد ہیں۔