کوپن ہیگن ۔ 6 فبروری (ایجنسیز) کنیڈا اور فرانس نے جمعہ کے روز گرین لینڈ میں اپنے قونصل خانے کھول دیئے ۔ یہ اقدام مقامی حکومت کیلئے حمایت کے ایک مضبوط اظہار کے طور پر اور اس تزویراتی قطبی جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کی مسلسل امریکی کوششوں کے بیچ سامنے آ رہا ہے۔ گرین لینڈ ڈنمارک کا ایک علاقہ ہے جو خود مختار حیثیت رکھتا ہے۔گذشتہ سال وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر معدنیات سے مالا مال اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم گذشتہ ماہ انہوں نے اسے قبضے میں لینے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک فریم ورک معاہدے کا اعلان کیا تاکہ وہاں زیادہ امریکی اثر و رسوخ کو یقینی بنایا جا سکے۔اگرچہ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے روس اور چین کے حوالے سے ڈونالڈ ٹرمپ کے سکیورٹی خدشات سے اتفاق کیا ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خود مختاری ان مذاکرات میں ایک “سرخ لکیر” کی حیثیت رکھتی ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے جون میں نوک کے دورے کے دوران پیرس کی جانب سے قونصل خانہ کھولنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا، جہاں انہوں نے گرین لینڈ کے ساتھ یورپ کی یکجہتی کا اظہار کیا اور ڈونالڈ ٹرمپ کے عزائم پر تنقید کی تھی۔ فرانس نے جان نوئل بواریے کو، جو اس سے قبل ویتنام میں فرانس کے سفیر رہ چکے ہیں، نوک میں اپنا قونصل جنرل مقرر کیا ہے۔کنیڈا نے بھی 2024 کے آخر میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے گرین لینڈ میں قونصل خانہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
یونیورسٹی آف گرین لینڈ کے پولیٹیکل سائنٹسٹ جپ اسٹرینڈسبرگ کا کہنا ہے کہ “ایک لحاظ سے، گرین لینڈ کے باشندوں کیلئے یہ ایک فتح ہے کہ وہ دو اتحادیوں کو نوک میں سفارتی نمائندگی کھولتے ہوئے دیکھ رہے ہیں”۔