حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں حصہ لینے تلگو دیشم ، بائیں بازو اور تلنگانہ جنا سمیتی نے سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے ۔ 2018 ء اسمبلی انتخابات کے بعد سے یہ جماعتیں سرگرم نہیں تھیں لیکن گریٹر حیدرآباد انتخابات کی اہمیت کے پیش نظر تمام پارٹیوں نے اپنے کیڈر کو الیکشن کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ تلگو دیشم قومی صدر چندرا بابو نائیڈو نے صدر تلنگانہ ایل رمنا کے ہمراہ اہم قائدین سے ویڈیو کانفرنس کی اور حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ نائیڈو نے کہا کہ حیدرآباد میں تلگو دیشم کیڈر مضبوط ہے اور بلدی انتخابات میں متاثر کن مظاہرہ کرسکتی ہے ۔چندرا بابو نے تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے حیدرآباد کے علاوہ کھمم اور ورنگل بلدی انتخابات میں حصہ لینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ریاستی اور ضلع سطح کے کوآرڈینیٹرس کو ہدایت دی ہے کہ عوامی مسائل پر احتجاج کے ذریعہ عوام کے درمیان رابطہ کو مستحکم کرے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اروند کمار گوڑ نے بتایا کہ 150 ڈیویژنس پر مقابلہ کی تیاری کی جارہی ہے ۔ تلگو دیشم گریٹر حیدرآباد میں دو مرتبہ برسر اقتدار رہی اور کانگریس دور حکومت میں وہ اہم اپوزیشن جماعت کی حیثیت سے سرگرم رہ چکی ہیں۔ اروند کمار گوڑ نے تلگو دیشم میںامیدواروں کی کمی سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا اور کہا کہ ہم انتخابات میں ٹی آر ایس پر واضح کردیں گے کہ حیدرآباد میں کس قدر طاقتور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع واری سطح کے اجلاسوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا۔ تلگو دیشم گریٹر حیدرآباد میں تنہا مقابلہ کریگی۔ کمیونسٹ جماعتوں سی پی آئی اور سی پی ایم نے بھی مقابلہ کی تیاری کی ہے۔ حیدرآباد میں پارٹی کو مستحکم کرنے پروفیسر کودنڈا رام کی زیر قیادت تلنگانہ جنا سمیتی بلدی انتخابات میں مقابلہ کرسکتی ہے۔