گریٹر انتخابات میں کارپوریٹرس کی عدم کارکردگی، ٹی آر ایس کی شکست کی وجہ

   

چیف منسٹر کو ارکان اسمبلی کی رپورٹ، عوامی ناراضگی کا بی جے پی کو فائدہ
حیدرآباد : گریٹر بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کی شکست کا جائزہ لینے قائدین کی مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جو الگ الگ زاویے سے شکست کی وجوہات کا پتہ چلانے کی کوشش کررہی ہیں۔ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ اور ورکنگ پریسڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے قائدین کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ بلدی وارڈس کی سطح پر جائزہ لیں تاکہ پارٹی کیڈر کو متحرک کرنے میں مدد ملے۔ گزشتہ 5 برسوں میں کارپوریٹرس کی کارکردگی کے بارے میں ٹکٹ الاٹمنٹ سے قبل رپورٹ حاصل کی گئی تھی لیکن نتائج کے اعتبار سے یہ رپورٹ قابل اعتبار ثابت نہیں ہوئی کیوں کہ بیشتر حلقوں میں جہاں ٹی آر ایس کو شکست ہوئی وہاں مقامی کارپوریٹرس سے ناراض تھے ۔ انتخابات میں ٹی آر ایس 34 نشستوں سے محروم ہوچکی ہے۔ ذرائع کے مطابق کارپوریٹرس کی عدم کارکردگی کے بارے میں متعلقہ ارکان اسمبلی نے شکایت کی تھی باوجود اس کے کئی کارپوریٹرس کو برقرار رکھا گیا جس کے نتیجہ میں پارٹی کا بھاری نقصان ہوا۔ اب جبکہ شکست کی وجوہات کا جائزہ لیا جارہا ہے پارٹی قائدین اِس نتیجہ پر پہونچے کہ ٹکٹ الاٹمنٹ کے وقت ارکان اسمبلی کی رائے اور عوامی جذبات کا احترام کیا جاتا تو صورتحال اِس حد تک خراب نہ ہوتی۔ انتخابی مہم کے دوران کئی حلقوں میں کارپوریٹرس کو مہم سے روک دیا گیا تھا اور بعض مقامات پر ارکان اسمبلی پر عوام نے برہمی ظاہر کی ۔ ٹی آر ایس کے 34 موجودہ کارپوریٹرس کی شکست کے بعد اب یہ احساس شدت سے ہونے لگا کہ اگر بڑی تعداد میں امیدوار تبدیل کئے جاتے تو شاید بی جے پی کو موقع نہ ملتا۔ موجودہ 99 کارپوریٹرس میں سے پارٹی نے 78 کو دوبارہ ٹکٹ دیا جبکہ محض 21 کی جگہ نئے نام طے کئے گئے۔ موجودہ صرف 44 کارپوریٹرس کامیابی حاصل کرسکے، اُن میں بھی 17 ایسے ہیں جو معمولی ووٹوں سے کامیاب ہوئے ۔ پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ اگر عوامی ناراضگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر امیدواروں کو تبدیل کیا جاتا تو شاید اِس قدر ہزیمت نہ ہوتی۔ ڈپٹی اسپیکر ٹی پدما راؤ نے 4 کارپوریٹرس کو تبدیل کرنے ہائی کمان سے باقاعدہ جدوجہد کی تھی اور پارٹی قیادت نے اُن کے دباؤ کے تحت 4 نئے امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا، یہ تمام چاروں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے۔ پدما راؤ گوڑ کے تجربہ کی بنیاد پر دیگر علاقوں کے ارکان اسمبلی نے رپورٹ پیش کی کہ عوامی ناراضگی اور کارپوریٹرس کی عدم کارکردگی سے بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ جوبلی ہلز رکن اسمبلی ایم گوپی ناتھ اور قطب اللہ پور کے رکن اسمبلی کے پی ویویکانند نے بعض حلقوں میں امیدواروں کو لمحہ آخر میں تبدیل کرایا تھا جس کا پارٹی کو فائدہ ہوا۔ ایل بی نگر، اوپل، مشیرآباد، عنبرپیٹ میں امیدواروں کی تبدیلی کی سفارش کو قبول نہیں کیا گیا لہذا اِن حلقوں میں بی جے پی کامیاب ہوئی۔