گریٹر بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس سنچری مکمل کرے گی: ہریش راؤ

   

نفرت کے ایجنڈہ کے ذریعہ ماحول بگاڑنے کی کوشش، بی جے پی اور کانگریس پر تنقید

حیدرآباد۔ ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کو یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سنچری کی تکمیل کرے گی۔ ہریش راؤ نے آج پٹن چیرو میں انتخابی مہم کے آخری دن ٹی آر ایس امیدوار کی ریالی میں شرکت کی۔ انہوں نے برہمن سماج کے نمائندوں کے اجلاس سے بھی خطاب کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران اپنی جان کی قربانی دینے والے سریکانت چاری کی قربانی کی یاد کا دن ہے جس نے علحدہ ریاست کے قیام کیلئے اپنی جان نچھاور کردی۔ کے سی آر نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مرن برت کیا تھا جس کے نتیجہ میں مرکزی حکومت کو تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا اعلان کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرائی حکمرانوں نے تلنگانہ تحریک کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ بی جے پی نے ایک ووٹ دو ریاست کا نعرہ لگاکر انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن عوام کا بھروسہ ٹی آر ایس کے ساتھ تھا۔ ہریش راؤ نے بی جے پی اور کانگریس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی فرقہ وارانہ ایجنڈہ کے ذریعہ شہر کے امن و سکون کو غارت کرنا چاہتی ہے۔ بی جے پی نے گریٹر انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی اور ٹی آر ایس کو شکست دینے کیلئے قومی قائدین کو حیدرآباد مدعو کیا گیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ 29 نومبر کو علحدہ تلنگانہ کا اعلان کیا گیا تھا اور آج 29 نومبر سنہرے حیدرآباد کی تشکیل کے عہد کا دن ہے۔ عوام نے ٹی آر ایس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حیدرآباد میں بسنے والے گجرات، بہار اور دیگر ریاستوں کے باشندوں کو لاک ڈاؤن کے دوران حکومت کی جانب سے ہرممکن مدد کی گئی۔ ہزاروں مزدوروں کو حکومت نے اپنے خرچ پر ٹرینوں کا انتظام کرتے ہوئے آبائی ریاستوں تک پہنچانے کا کام کیا۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں برقی اور پانی کے مسئلہ کی مستقل طور پر یکسوئی کردی گئی ہے۔ حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال کو ہر صورت میں برقرار رکھنے کیلئے ٹی آر ایس حکومت پابند عہد ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کارکردگی کی بنیاد پر ٹی آر ایس امیدواروں کو کامیاب کریں تاکہ نتائج کے بعد ریاستی حکومت کی مدد سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن شہر میں ترقیاتی کام جاری رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر انتخابات پر سارے ملک کی نظریں ہیں اور رائے دہندوں کو ٹی آر ایس کی تائید کے ذریعہ سنہرے تلنگانہ کی سمت پیشرفت کرنے والی حکومت کی تائید کرنی ہوگی۔