نئی قانون سازی کا منصوبہ، چیف منسٹر اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے حق میں
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات سے قبل حکومت انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمندوں کو بڑی راحت دینے کی تیاری کررہی ہے۔ جی ایچ ایم سی قوانین کے تحت 2 سے زائد بچے رکھنے والے افراد انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔ حالیہ عرصہ میں نہ صرف برسر اقتدار پارٹی بلکہ حکومت کی حلیف جماعت کی جانب سے نمائندگی کی گئی تھی کہ گریٹر حیدرآباد میں مقابلہ کے خواہشمندوں کو اس شرط سے استثنیٰ دیا جائے تاکہ قابل اور اہل امیدواروں کو ٹکٹ دیا جاسکے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن بل کی منظوری کیلئے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔ جی ایچ ایم سی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ دو بچوں کی شرط سے دستبرداری اختیار کرلی جائے گی۔ واضح رہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی میعاد فروری میں ختم ہورہی ہے اور ڈسمبر یا جنوری میں انتخابات کا امکان ہے۔ حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ اسمبلی کا مانسون سیشن جو حال ہی میں اختتام پذیر ہوا اُسے گورنر کی جانب سے ابھی تک غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ایسی صورت میں حکومت کو نئی قانون سازی کیلئے دوبارہ اجلاس طلب کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اسمبلی اجلاس کے عدم امکانات کی صورت میں حکومت آرڈیننس جاری کرسکتی ہے تاہم اب جبکہ حکومت کو اجلاس طلب کرنے کی گنجائش موجود ہے بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ایک یا دو دن کے خصوصی اجلاس کے حق میں ہیں۔ نئی قانون سازی کے ذریعہ دو سے زائد بچوں کی صورت میں مقابلہ سے نااہل قراردینے کی شرط کو ختم کردیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ نیا ایکٹ محکمہ قانون میں زیر غور ہے اور حکومت کو رپورٹ کی پیشکشی کے بعد اسمبلی اجلاس کی طلبی کا فیصلہ ہوگا۔ حکومت نئے قانون میں کسی بھی وارڈ کیلئے تحفظات کو کم از کم دو میعادوں کیلئے برقرار رکھنے اور جی ایچ ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو کالعدم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ نئے قانون میں میونسپلٹیز ایکٹ 2019 کی اُن دفعات کو شامل کیا جائے گا جس کے تحت عدم کارکردگی کی صورت میں نااہل قراردینے اور عہدیداروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی گنجائش فراہم کی جائے گی۔ موجودہ قانون کے تحت منتخب ہونے کے بعد بھی اگر بچوں کی تعداد دو سے بڑھتی ہے تو نااہل قرار دینے کی گنجائش موجود ہے اور اس طرح کے بعض معاملات عدالتوں میں زیر دوران ہیں۔