گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات میں بیالٹ پیپر کا استعمال یقینی

,

   

کووڈ۔19 کے پیش نظر احتیاطی تدابیر، بی سی تحفظات میں کوئی تبدیلی نہیں
حیدرآباد: اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بیالٹ پیپر یا الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے بارے میں سیاسی جماعتوں سے رائے حاصل کی ہے ۔ تاہم باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میں بیالٹ پیپر کا استعمال کیا جائے گا۔ کووڈ۔19 احتیاطی تدابیر کے طور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بجائے بیالٹ پیپر کے استعمال پر غور کیا جارہا ہے۔ الیکشن کمشنر سی پارتھا سارتھی نے بتایا کہ قطعی فیصلہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد میں استعمال کرنے کیلئے درکار الیکٹرانک ووٹنگ مشین دستیاب نہیں ہے ۔ لہذا الیکشن کمیشن بیالٹ پیپر کو ترجیح دے سکتا ہے۔ جنوری میں ریاست میں 120 میونسپلٹیز ، 10 میونسپل کارپوریشن اور 12,000 سے زائد گرام پنچایتوں کے انتخابات بیالٹ پیپر کے ذریعہ منعقد کئے گئے تھے ۔ 2002 ء میں جب میونسپل کارپوریشن حیدرآباد کے تحت 100 وارڈس تھے، اس وقت انتخابات بیالٹ پیپر کے ذریعہ ہوئے تھے ۔ 2007 ء میں گریٹر حیدرآباد کی تشکیل کے بعد 2009 اور پھر 2016 ء میں ای وی ایم مشینوں کے ذریعہ رائے دہی ہوئی۔ تلنگانہ کی سیاسی جماعتوں میں صرف بی جے پی وہ واحد پارٹی ہے جو ای وی ایم مشینوں کی تائید کر رہی ہے جبکہ برسر اقتدار ٹی آر ایس نے بیالٹ پیپر کی تائید کی ۔ اسی دوران گریٹر حیدرآباد کے 150 وارڈس میں موجودہ بی سی کوٹہ برقرار رہے گا۔ حکومت نے موجودہ بی سی تحفظات کو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بی سی رائے دہندوں کی نشاندہی کے کام میں وقت لگ سکتا ہے، لہذا حکومت 2016 ء کے تحفظات کی بنیاد پر انتخابات منعقد کرے گی۔ جی ایچ ایم سی ایکٹ کے مطابق ہر عام انتخابات سے قبل بی سی رائے دہندوں کی نشاندہی کا کام کیا جائے۔ چونکہ اسمبلی اجلاس کے لئے کافی وقت ہے ، لہذا حکومت آرڈیننس کے ذریعہ جی ایچ ایم سی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ موجودہ بی سی تحفظات کے تحت انتخابات کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔