تلنگانہ اسمبلی میں ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابوکی وضاحت
حیدرآباد ۔5 ۔ جنوری (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے واضح کیا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کوئی بھی تجویز حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ہریش راؤ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت نے جی ایچ ایم سی کے حدود میں توسیع کی ہے تاہم جی ایچ ایم سی کی تقسیم کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 31 مارچ 2025 تک جی ایچ ایم سی کا قرض 4717.81 کروڑ ہے۔ گزشتہ 12 ماہ کے دوران جی ایچ ایم سی نے کوئی بھی قرض حاصل نہیں کیا۔ ایچ ایم ڈی اے نے قومیائے ہوئے بینکوں سے 5000 کروڑ کا قرض طلب کیا ہے۔ سریدھر بابو نے اسمبلی میں عوامی مسائل پر مباحث کیلئے بی آر ایس ارکان کی غیر موجودگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے باہر چیف منسٹر اور اسپیکر اسمبلی کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس ارکان کو ایوان میں مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے ۔ سریدھر بابو نے اسپیکر سے اپیل کی کہ بی آر ایس ارکان کی اسمبلی کے باہر بیان بازی کے خلاف کارروائی کریں۔ واضح رہے کہ حکومت نے حال ہی میں شہر کے اطراف کی 20 میونسپلٹیز اور 7 کارپوریشنوں کو جی ایچ ایم سی میں ضم کرتے ہوئے اسمبلی میں قانون سازی کی ہے۔ جی ایچ ایم سی کے بلدی وارڈس کی تعداد بڑھ کر 300 ہوچکی ہے۔ سرکاری حلقوں میں جی ایچ ایم سی کو تین حصوں میں تقسیم کئے جانے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ ایسے میں اسمبلی میں سریدھر بابو نے جی ایچ ایم سی کی تقسیم پر قطعی فیصلہ نہ کئے جانے کا انکشاف کیا۔1
