گریٹر حیدرآباد میں پارٹی کے نازک موقف پر چیف منسٹر فکر مند، کے ٹی آر کو ذمہ داری

   

ایک رکن اسمبلی ، ایک سابق رکن اسمبلی ، 5 کارپوریٹرس کی کانگریس میں شمولیت کا سخت نوٹ ، سیما ، آندھرا کے ووٹرس پر بھی نظر
حیدرآباد : /19 اکٹوبر (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد سے ایک رکن اسمبلی ، ایک سابق رکن اسمبلی ، 5 بی آر ایس کے کارپوریٹرس کی کانگریس میں شمولیت کے بعد چیف منسٹر کے سی آر فکر مند ہوگئے ہیں ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر کو گریٹر حیدرآباد کا انچارج نامزد کرتے ہوئے کامیاب انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میں چیف منسٹر کے سی آر نے ایک موجودہ رکن اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دیا ہے ۔ ملکاجگری سے پارٹی ٹکٹ دینے کے باوجود اپنے فرزند کو اسمبلی حلقہ میدک سے ٹکٹ نہ دینے پر رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ بی آر ایس سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل ہوگئے ۔ کانگریس پارٹی نے دونوں باپ بیٹے کو ٹکٹ دیا ہے ۔ اس کے علاوہ جی ایچ ایم سی کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے فلور لیڈر کے علاوہ دیگر چار کارپوریٹرس بی آر ایس سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ اس کے علاوہ کئی سابق کارپوریٹرس بھی کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں ۔ ساتھ ہی مزید چند بی آر ایس کے کارپوریٹرس اور پارٹی کے دیگر سینئر قائدین بی آر ایس کے موجودہ ارکان اسمبلی جنہیں دوبارہ ٹکٹ دیا گیا ہے ان سے ناراض ہیں اور کانگریس سے رابطے میں آگئے ہیں ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اے ریونت ریڈی ، بی آر ایس اور بی جے پی کے ناراض کارپوریٹرس کے علاوہ دیگر قائدین سے رابطہ میں ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ دسہرہ کے بعد قائدین بڑے پیمانے پر کانگریس میں شامل ہوں گے ۔ اس کی اطلاعات ملنے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر بہت زیادہ سرگرم ہوگئے ہیں اور گریٹر حیدرآباد میں پارٹی کو مشکلات سے باہر نکالنے کی ذمہ داری اپنے فرزند کے ٹی آر کو دی گئی ہے ۔ ساتھ ہی انہیں سیما ۔ آندھرا کے ووٹرس کو بھی بی آر ایس کی چھتری تلے لانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر سے حکم ملتے ہی کے ٹی آر نے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی اور پارٹی امیدواروں سے ٹیلی کانفرنس کا اہتمام کرتے ہوئے رابطہ پیدا کیا ہے ۔ پارٹی کے ناراض کارپوریٹرس اور پارٹی کے سینئر قائدین کو سمجھانے منانے میں غیر معمولی رول ادا کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ضرورت پڑنے پر ان سے ملاقات کرانے پر بھی زور دیا ہے ۔ کے ٹی آر نے بھی چند ناراض کارپوریٹرس سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے ۔ پارٹی مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی ناراضگی کو ختم کرنے اور پارٹی امیدواروں کو کامیاب بنانے میںاہم رول ادا کرنے کی ہدایت دی ۔ حکومت کی تشکیل کے بعد ان سے جو بھی ناانصافیاں کی گئی ہیں اس کا ازالہ کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ کے ٹی آر ایک طرف بی آر ایس کے ناراض قائدین کو سمجھارہے ہیں ۔ دوسری جانب کانگریس اور بی جے پی کے ناراض قائدین سے بھی رابطہ بنائے ہوئے ہیں اور انہیں بی آر ایس میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ تلنگانہ سیما ۔ آندھرا اسوسی ایشن کے اہم قائدین سے بھی کے ٹی آر نے رابطہ پیدا کیا ہے ۔ سیما ۔ آندھرا کے ووٹ بی آرایس کو حاصل کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں ۔ ن