کیسس میں مزید اضافہ کا اندیشہ، محکمہ صحت اور بلدیہ میں تال میل کا فقدان
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ایک طرف کورونا پازیٹیو کیسس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے تو دوسری طرف محکمہ صحت اور جی ایچ ایم سی کے درمیان تال میل کی کمی کے نتیجہ میں مجلس بلدیہ نے کنٹینمنٹ کلسٹرس کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ دونوں محکمہ جات کے درمیان تال میل کی کمی اور کورونا کے مریضوں کی تفصیلات فراہم کرنے میں محکمہ صحت کی تاخیر کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے جو عوام کے مفاد کے حق میں نہیں ہے اور اس سے کورونا کیسس کی روک تھام کے بجائے مزید اضافہ کا اندیشہ ہے۔ کسی بھی علاقہ میں کورونا پازیٹیو مریض پائے جانے کے بعد مریض کے گھر اور اطراف کے حصہ کو کنٹینمنٹ زون میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ مجلس بلدیہ کو شکایت ہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے مریضوں اور ان کے مکانات کی تفصیلات فراہم کرنے میں محکمہ صحت تساہل سے کام لے رہا ہے۔ ابتداء میں دو دن میں تفصیلات روانہ کی جارہی تھیں لیکن اب یہ مدت بڑھ کر ایک ہفتہ ہوچکی ہے۔ بلدیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ محکمہ صحت نے گذشتہ ہفتہ جو تفصیلات فراہم کی تھیں اس کی بنیاد پر کنٹیمنٹ علاقہ قرار دیئے گئے۔ موجودہ صورتحال میں بلدیہ کے حکام کنٹینمنٹ خدمات کو جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہیں اور انہوں نے گذشتہ دو ہفتوں میں 50 فیصد تک کنٹینمنٹ زونس میں کمی کردی ہے۔ 1100 کنٹینمنٹ کلسٹرس کی تعداد گھٹا کر 626 کردی گئی۔ بلدیہ کا کہنا ہے کہ وہ تمام کنٹینمنٹ کلسٹرس کو بند کردے گا اور مریض سے ربط میں آنے والے افراد خود اپنی حفاظت آپ کرلیں۔ شیر لنگم پلی علاقہ میں 35 پازیٹیو کیسس کے باوجود بلدیہ نے تمام کنٹینمنٹ کلسٹرس کو بند کردیا ہے۔ایل بی نگر زون میں 80 پازیٹیو کیسس رہے اور 79 مکانات کو کنٹینمنٹ کیا گیا۔ چارمینار زون میں 692 کیسس کے ساتھ 345 ہاوز کلسٹرس تیار کئے گئے۔ خیریت آباد زون میں 39 کیسس کے ساتھ 31 ہاوز کلسٹرس بنائے گئے تھے۔ اسی طرح سکندرآباد اور کوکٹ پلی میں علی الترتیب 120 اور 51 کلسٹرس بنائے گئے تھے۔ محکمہ صحت کے عدم تعاون کے نتیجہ میں مجلس بلدیہ کے تمام ایسے ملازمین جو کنٹینمنٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی مقررہ ڈیوٹی پر واپس آجائیں۔ بلدیہ کے اس فیصلہ سے شہر میں کورونا کے کیسس میں مزید اضافہ کا اندیشہ ہے۔