مکان مالکین کو دستاویزات کی نقول تیار رکھنے حکام کا مشورہ
حیدرآباد۔/28 جولائی، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے 30 جولائی کو جائیدادوں کے جی آئی ایس سروے کا آغاز ہوگا۔ انٹیگریٹیڈ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (GIS) کے ذریعہ عمارتوں کا سروے کیا جائے گا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی عمارتوں کے دستاویزات کی فوٹو کاپیاں تیار رکھیں اور سروے کیلئے آنے والے عہدیداروں کے حوالے کریں۔ عہدیداروں کی ٹیم گھر گھر پہنچ کر سروے کرے گی اور مکان مالکین سے جن دستاویزات کی فوٹو کاپی تیار رکھنے کی اپیل کی گئی ان میں بلڈنگ پرمیشن، عمارت میں موجود افراد کی تفصیلات، تازہ ترین پراپرٹی ٹیکس کی رسید، واٹر بل، الیکٹریسٹی بل، مالک کے شناختی تفصیلات اور کمرشیل پراپرٹی کی صورت میں ٹریڈ لائسنس نمبر شامل ہیں۔ مالکین کو موجود رہنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ کرایہ دار یا دیگر افراد بھی فوٹو کاپیز حوالے کرسکتے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی ایڈیشنل کمشنر ریوینیو سنیہا شبارش نے بتایا کہ داخل کی گئی دستاویزات کی تنقیح کی جائے گی۔ سروے کا آغاز اوپل، حیات نگر، حیدر نگر، کوکٹ پلی، کوکٹ پلی ہاوزنگ بورڈ کالونی، میاں پور اور چندا نگر سے ہوگا۔ سروے کے کام کو آنے والے دنوں میں دیگر علاقوں میں توسیع دی جائے گی۔ مکانات سے حاصل کی جانے والی تفصیلات کو راز میں رکھا جائے گا اور انہیں حیدرآباد کی شہری ترقی اور دیگر امور کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ عہدیداروں کے مطابق حیدرآباد میں عوامی خدمات کو بہتر بنانے کیلئے یہ پراجکٹ شروع کیا گیا ہے۔ جی ایچ ایم سی تمام جائیدادوں کی تفصیلات محفوظ کرے گی جس میں جائیداد کا رقبہ اور اس کے حدود شامل رہیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ سروے کے نتیجہ میں عوامی خدمات میں بہتری پیدا ہوگی۔ جی آئی ایس پر مبنی سروے اور جائیدادوں کی میاپنگ میں سٹیلائیٹ میاپنگ، ڈرون سروے اور فیلڈ سروے شامل ہوتا ہے۔1