گریٹر حیدرآباد میں 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام پر توجہ

,

   

Ferty9 Clinic

اندرون دو سال تکمیل کی ہدایت، خانگی دواخانوں سے تلخ تجربہ کے بعد حکومت کا فیصلہ
حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میں بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے حکومت نے 4 سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو دواخانوں کی تعمیر کا کام اندرون دو سال مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ گچی باؤلی، ایل بی نگر، الوال اور صنعت نگر کے علاقوں میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس قائم کرتے ہوئے ان کا نام تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس رکھا جائے گا۔ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران عوام کو خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس سے تلخ تجربہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں حکومت نے سرکاری سطح پر طبی سہولتوں کو وسیع تر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں سے عوام کو گاندھی، نمس یا پھر عثمانیہ ہاسپٹلس پہنچنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ خاص طور پر حادثات اور تشویشناک حالت کے مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں تاخیر سے اموات واقع ہورہی ہیں لہذا 4 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی جہاں مضافاتی علاقوں کے مریض باآسانی پہنچ سکیں گے۔ گچی باؤلی میں واقع تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس، چیسٹ ہاسپٹل صنعت نگر اور گڈی انارام ایل بی نگر میں بہتر سہولتوں کے ساتھ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ عہدیداروں نے کہا کہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو گاندھی اور عثمانیہ ہاسپٹل منتقل کیا جاتا ہے لہذا نئے سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے قیام سے مریضوں کی جان بچانے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ فروری 2016 میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 1000 بستروں پر مشتمل 4 ہاسپٹلس کے قیام کیلئے مقامات کی نشاندہی کی عہدیداروں کو ہدایت دی تھی۔ مذکورہ ہاسپٹلس سے اوپل، ایل بی نگر، ملکاجگیری تا کنٹونمنٹ، قطب اللہ پور تا کوکٹ پلی اور شیر لنگم پلی تا راجندر نگر علاقوں کے عوام کو سہولت رہے گی۔ ہاسپٹلس کی تعمیر کی عاجلانہ تکمیل کیلئے حکومت نے ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے جس میں ہیلت یونیورسٹی کے وائس چانسلر بی کرونا کر ریڈی، ای سی آئی سی سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل صنعت نگر کے ڈین ایم سرینواس، ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن کے رمیش ریڈی، منیجنگ ڈائرکٹر تلنگانہ اسٹیٹ میڈیکل سرویسس اینڈ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن چندر شیکھر ریڈی اور ماہر ڈاکٹرس کو شامل کیا گیا ہے۔