18 جنوری تک مہلت، مقابلہ سے نااہل قرار دینے اور رکنیت ختم ہونے کا خطرہ
حیدرآباد: اسٹیٹ الیکشن کمشنر آر پارتھا سارتھی نے واضح کردیا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو 18 جنوری سے قبل اخراجات کی تفصیلات کمیشن میں داخل کرنی ہوگی، بصورت دیگر ان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج کے اعلان سے اندرون 45 دنوں میں انتخابی مصارف کی تفصیلات ہر امیدوار کو داخل کرنی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے امیدواروں کیلئے 18 جنوری آخری تاریخ ہے۔ اس مدت کے دوران اگر اخراجات کی تفصیل داخل نہیں کی گئی تو امیدوار آئندہ تین برسوں کیلئے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیئے جائیں گے ۔ منتخب امیدوار اپنے عہدہ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمشنر نے کمیشن کے عہدیداروں ، کمشنر جی ایچ ایم سی ، زونل کمشنرس اور انتخابات کے مبصرین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ پارتھا سارتھی نے کہا کہ تمام امیدواروں کو 18 جنوری سے قبل انتخابی مصارف کی تفصیل داخل کرنی چاہئے ۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ مصارف داخل نہ کرنے والے امیدواروں کے خلاف کارروائی کی تیاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ سنکرانتی کی تعطیلات کے پیش نظر امیدواروں کو اپنے حلفنامے مقررہ مدت میں جمع کرنے چاہئے ۔ پارتھا سارتھی کے مطابق 1122 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا جن میں سے 999 امیدواروں نے انتخابی مصارف کی تفصیلات داخل کردی ہیں۔ باقی 123 امیدواروں کو بہرصورت تفصیلات داخل کرنی ہوگی ورنہ وہ مقابلہ سے نااہل قرار دیئے جائیں گے ۔ انتخابی خرچ کی نگرانکار کمیٹی تفصیلات کی جانچ کے بعد کمیشن کو روانہ کرے گی۔ جی ایچ ایم سی کمشنر اور دیگر عہدیدار 25 جنوری سے قبل الیکشن کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کردیں گے ۔ اجلاس میں جی ایچ ایم سی کمشنر سومیش کمار ، سکریٹری اسٹیٹ الیکشن کمشنر اشوک کمار ، جی ایچ ایم سی زونل کمشنر اور الیکشن میں تعینات کئے گئے انتخابی خرچ کے مبصرین نے شرکت کی ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 2019 ء میں سرپنچ ، وارڈ ممبر ، ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی کے عہدوں کیلئے مقابلہ کرنے والے کئی ہزار امیدواروں نے انتخابی خرچ کی تفصیلات داخل نہیں کی ہے۔ 3789 سرپنچ ، 32257 وارڈ ممبرس ، 3105 ایم پی ٹی سی اور 348 زیڈ پی ٹی سی ارکان نے انتخابی خرچ کی تفصیلات داخل نہیں کی۔