گزرگاہیں بند ہونے سے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل رک گئی

   

Ferty9 Clinic

l لاکھوںبے گھر افراد میں خوراک اور دیگر اشیاء کی تقسیم میں مشکلات l اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق کی پریس کانفرنس
غزہ : غزہ میں امداد کی ترسیل کم ہوتی جا رہی ہے کیوں کہ سات ماہ سے جنگ کے شکار فلسطینی علاقے غزہ کے جنوبی شہر رفح کی مصر کی سرحد کے ساتھ دو اہم گزرگاہیں پیر کو بھی بند رہیں۔اس صورتحال میں امدادی کارکنان کو لاکھوں بے گھر افراد میں خوراک اور دیگر اشیاء کی تقسیم میں مشکلات کا سامنا ہے۔اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ محصور علاقے میں انسانی امداد کی تقسیم رک گئی ہے۔ رفح کراسنگ کی بندش کے سبب امدادی سامان کی آمد ممکن نہیں ہے۔ترجمان نے بتایا کہ ابھی بھی کریم شالوم کراسنگ تک محفوظ اور لاجسٹک طور پر قابل عمل رسائی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔فرحان حق کے مطابق عالمی ادارہ ایریز کراسنگ سے امدادی سامان کے حصول کی کوشش کر رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں سامان کی ترسیل کم رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایندھن بھی بچا بچا کر احتیاط سے استعمال کیا جا رہا ہے کیوں کہ امدادی اداروں کے پاس ایندھن بھی بہت کم ہے۔اقوامِ متحدہ کے ترجمان کے مطابق یونائیٹڈ نیشن ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی کے عملے کا ایک رکن غزہ میں اس وقت ہلاک ہوا جب ان کی گاڑی کو پیر کو رفح کے یورپی ہاسپٹل کے راستے میں نشانہ بنایا گیا۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے ان حملوں کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پیر کو مغربی کنارے سے غزہ امدادی سامان لے کر جانے والے ایک امدادی قافلے پر اسرائیل کے ساتھ واقع چوکی پر اسرائیلی مظاہرین کے گروپ حملہ کیا اور اس قافلے کو روک دیا۔اس واقعے کچھ ویڈیو آن لائن زیرِ گردش ہیں جن میں مشتعل افراد کو امدادی سامان کے کچھ ٹرکوں سے سامان پھینکتے اور اسے تباہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس نے کچھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے البتہ اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔واضح رہے کہ غزہ کی آبادی کا زیادہ تر انحصار امداد پر ہے۔دوسری طرف اسرائیل رفح کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کا آخری گڑھ سمجھتا ہے۔اسرائیل نے امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے ان خدشات کو مسترد کرتا رہا ہیکہ رفح میں بڑی عسکری کارروائی عام شہریوں کیلئے تباہ کن ہوگی۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن اسرائیل کو حملوں میں استعمال ہونے والے بموں کی ترسیل روکنے کے احکامات دے چکے ہیں۔اسرائیل کی فوج گزشتہ ہفتے سے رفح میں کارروائیاں اور بمباری تیز کر چکی ہے جبکہ آبادی کو شہر کے کچھ حصوں سے انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔اسرائیل کا دعویٰ ہیکہ وہ مصر کے ساتھ غزہ کے سرحدی علاقہ میں عسکریت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کیلئے محدود کارروائی کر رہا ہے۔اسرائیلی احکامات کے بعد رفح سے لگ بھگ ساڑھے تین لاکھ فلسطینی نقل مکانی کر چکے ہیں۔ فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ ان میں سے بہت سے شہری 7 ماہ قبل غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے متعدد بار نقل مکانی کر چکے ہیں۔