گزشتہ سال ایئر انڈیا کو 3600کروڑ کا نقصان

   

ایئرانڈیا اور دو معاون کمپنیوں کو فروخت کرنے کا منصوبہ

نئی دہلی: سرکاری ایئر لائن کمپنی ایئر انڈیا کو گذشتہ مالی سال میں 3600کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔شہری ہوا بازی کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری کی موجودگی میں ایئر انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر راجیو بنسل نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ یہاں پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں ، بنسل نے کہا‘‘مالی سال 2019۔20 کے لئے ایئر انڈیا اور اس کی پانچ ذیلی تنظیموں کے مالی سال 20192020 کے اکاؤنٹس کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔ گزشتہ سال3600 کروڑ روپے کا نقد نقصان ہوا۔ یہ اس سے ایک سال کی بہ نسبت کم ہے۔ ایئر انڈیا پر پہلے ہی ہزاروں کروڑوں روپے واجب الادا ہیں۔ اس کی سرمایہ کشی کا عمل اب بھی جاری ہے جس میں ایئر انڈیا اور اس کی دو معاون کمپنیوں میں ایئر انڈیا کی پوری حصہ داری فروخت کی جائے گی۔ پوری نے کہا کہ اس کیلئے بہت سارے ‘لیٹر آف انٹریسٹ ’آ چکے ہیں اور 5 جنوری تک ان میں اہل بولی لگانے والوں کا انتخاب کرکے مالی بولیاں لگائی جائیں گی۔ مالی بولی جمع کروانے کے لئے 90 دن کا وقت دیا جائے گا۔ بنسل نے کہا کہ کووڈ19 دور میں پروازوں پر مکمل پابندی کے بعد مسافروں کی تعداد میں بتدریج اضافے کے ساتھ سرکاری ایئر لائنز کی مالی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے ۔ انہوں نے کوئی ڈیٹا شیئر نہیں کیا ، تاہم انہوں نے کہا ‘‘ہمارے لئے دوسری سہ ماہی پہلی سہ ماہی سے بہتر تھی اور تیسری سہ ماہی دوسری سے بہتر۔’’انہوں نے بتایا کہ ایئر انڈیا گروپ وندے بھارت مشن کے تحت اب تک 6,250سے زیادہ پروازیں چلاچکا ہے ۔ ان میں سے 10 لاکھ مسافر وطن آئے ہیں جبکہ ساڑھے چھ لاکھ مسافر بیرون ملک کیلئے روانہ ہوئے ۔