گزشتہ 5سال میں کشمیری عوام نے مصائب کے سوا کچھ نہیں دیکھا: فاروق عبداللہ

   

جموں: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ اس وقت ہمارے سامنے سخت ترین امتحان ہے اور اس امتحان میں سرخ رو ہونے کیلئے جموں وکشمیر کے زی شعور عوام کو متحدہ ہونے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی جیت یقینی ہے ۔ ان باتوں کا اظہا ر فاروق عبداللہ نے خطہ چناب کے دورہ پر ڈاک بنگلہ ڈوڈہ میں ڈیلی گیٹ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کے حدبندی کرکے اپنی من مرضی سب کچھ تہس نہس کیا گیا اور سازش کے تحت لوگوں کو مذہبی بنیادوں تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی گئی، ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور اس کیلئے ہر ایک شہری کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج جموں وکشمیر کے عوام کو نہ صرف اقتصادی اور معیشی طور بے اختیار کیا جارہاہے بلکہ مختلف طریقوں سے اضافی بوجھ بڑھایا جارہاہے ۔ مختلف حربے اپنا کر لوگوں سے زمینیں چھینی جارہی ہیں، ملازمین سے ملامتیں چھینی جارہی ہیں، یہاں کے ٹھیکے باہر کے لوگوں کو دیئے جارہے ہیں، یہاں کی نوکریاں غیر مقامی اُمیدواروں کو دی جارہی ہیں، ہمارے یہاں لوگوں کی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار بیٹھے ہیں اور عمر کی حدیں پار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج حالت یہ ہے کہ ہمارے نوجوان ذہنی پریشانیوں اور منشیات جیسی بدعت کے دلدل میں پھنس رہے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے کہاکہ دفعہ 370 اور 35 اے غیر آئینی اور غیر جمہوری طور چھیننے کے وقت کہا گیا تھا کہ جموں وکشمیر میں خوشحالی آئے گی لیکن گذشتہ پانچ سال میں یہاں کے عوام نے مشکلات اور مصائب کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ حکمرانوں کی عوام کے تئیں بے حسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امسال جموں وکشمیر میں ریکارڈ توڑ بجلی بحران تھا لیکن یہاں مکمل ہونے والے بجلی پروجیکٹ سے بجلی راجستھان کو سپلائی کرنے کیلئے 25 سالہ معاہدہ کیا گیا۔