200 سے زائد غیر مجاز رجسٹریشن منسوخ، ایک بھی غلط فیصلہ کو ثابت کرنے مخالفین کو چیلنج، محمد سلیم کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/20 فروری،( سیاست نیوز)صدر نشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں کئی اہم اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا گیا اور وقف بورڈ کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ ملک کا واحد بورڈ ہے جس نے 223 وقف جائیدادوں کے غیر مجاز رجسٹریشن منسوخ کئے ہیں اور مزید 500 رجسٹریشن کی منسوخی کا معاملہ رجسٹرار دفاتر میں زیر دوران ہے۔ اپنی پانچ سالہ میعاد کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور انہوں نے اللہ کی امانت یعنی وقف جائیدادوں کے معاملہ میں کوئی خیانت نہیں کی ہے۔ میں اللہ تبارک تعالیٰ کا شکر گذار ہوں کہ اس نے دو مرتبہ صدر نشین وقف بورڈ کی حیثیت سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے بعض گوشوں کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو مسترد کردیا اور چیلنج کیا کہ پہلی اور دوسری میعاد میں کسی بھی غلط فیصلہ پر ان کی دستخط دکھائی جائے تو وہ اپنی تمام ذاتی جائیدادوں کو غریبوں میں تقسیم کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقف مافیا نے ان کے خلاف محض اس لئے مہم شروع کی ہے کیونکہ انہوں نے کئی بڑے قابضین کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ کی میعاد 22 فروری کو ختم ہورہی ہے اور حکومت نے نئے بورڈ کی تشکیل کا مرحلہ شروع کردیا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کے تعاون سے تلنگانہ وقف بورڈ ملک کا واحد بورڈ ہے جس نے نہ صرف جائیدادوں کے رجسٹریشن منسوخ کرائے بلکہ غیر مجاز قابضین کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا۔ حکومت نے جی او 15 کے تحت اوقافی املاک کو رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں آٹو لاک کے تحت شامل کیا ہے۔ کوئی بھی غیر مجاز طور پر اوقافی جائیدادوں کا رجسٹریشن نہیں کرپائے گا اور غیر قانونی او آر سی اور پٹہ جات منسوخ کئے جائیں گے۔ محمد سلیم نے کہا کہ عدالتوں میں کئی اہم جائیدادوں کے تحفظ میں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں 12 ، ہائی کورٹ 1431 ، وقف ٹریبونل 1016 اور تحت کی عدالتوں میں 114 مقدمات زیر دوران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ وقف بورڈ میں تقریباً 50 کروڑ کے فکسڈ ڈپازٹ ہیں اور 5 برسوں میں انہوں نے خسارہ کو آمدنی میں تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرایہ جات کی وصولی سے 52 کروڑ اور ہنڈی سے 38 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ وقف بورڈ کے ذریعہ فلاحی اسکیمات کے تحت بیواؤں کو پنشن، علاج اور تعلیم کیلئے امداد دی جاتی ہے۔ حیدرآباد میں سیلاب کے موقع پر اور کورونا وباء کے دوران غریبوں کی مدد کی گئی۔ طلبہ میں نوٹ بکس کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماہانہ تقریباً 10 ہزار ائمہ و موذنین کو فی کس 5 ہزار روپئے اعزازیہ دیا جارہا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر انہیں آئندہ جو بھی ذمہ داری دیں گے اسے بخوبی نبھانے کی کوشش کی جائے گی۔ر