کئی مقامات پر راجہ سنگھ کے پتلے نذر آتش ، سخت کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔23۔اگسٹ(سیاست نیوز) دونوں شہرو ںمیں ملعون راجہ سنگھ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ دن بھر جاری رہا اور شہر کے مختلف علاقوں میں تاجرین نے رضاکارانہ طور پر اپنے تجارتی ادارے بند رکھتے ہوئے شان رسالتؐ میں کی گئی گستاخی پر برہمی کا اظہار کیا ۔ شہر کے بیشتر تجارتی علاقوں میں تاجرین نے بازاروں کو بند رکھتے ہوئے احتجاج کیا اور بعض علاقوں میں نوجوانوں نے موٹر سیکل ریالیوں کی شکل میں نکل کر احتجاج کیا اور سیاہ پرچم لہرائے اور مختلف علاقو ںمیں راجہ سنگھ کے پتلے نذرآتش کئے گئے ۔ راجہ سنگھ کی گرفتاری کے خلاف بیگم بازار کے علاقو ںمیں ان کے حامیوں نے جبری طور پر بازار بند کرواتے ہوئے پولیس کی کاروائی پر احتجاج کیا اور ملعون کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ لگائے ۔ پرانے شہر کے علاقوں کشن باغ‘ عطاپور‘ راجندر نگر‘ جہاں نما‘ فلک نما‘ شاہ علی بنڈہ ‘ محبوب چوک‘ لاڈ بازار ‘ چارمینار ‘ مغلپورہ کے کئی علاقوں میں تجارتی اداروں کو بند کردیا گیا جبکہ کئی اسکولوں میں اولیائے طلبہ و سرپرستوں نے بطور احتجاج اپنے بچوں کو اسکول روانہ نہیں کیا جس کی وجہ سے کئی اسکولوں میں طلبہ کی تعداد نصف سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ۔ ٹپہ چبوترہ‘ جھرہ‘ آصف نگر‘ نامپلی ‘ ملے پلی اور اطراف واکناف کے علاقوںمیں بھی بازار بند رہے اور ماحول میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے کئی اسکولوں نے آدھے دن کے بعد اسکولوں کو تعطیل دے دی۔ بندلہ گوڑہ ‘ چندرائن گٹہ‘ حافظ بابانگر‘ مصری گنج‘ کالا پتھر ‘ تاڑبن‘ بہادرپورہ‘ سلطان شاہی ‘ یاقوت پورہ‘ سنتوش نگر‘ ریاست نگر ‘ عیدی بازار اور دیگر علاقوں میں بھی بازاروںکو بند رکھتے ہوئے احتجاج کیا گیا۔ دونوں شہروں میں دن بھر راجہ سنگھ کی زہر افشانی ‘ رات دیر گئے شروع ہونے والے احتجاج اور صبح کے اوقات میں ملعون کی گرفتاری اور شام ہونے تک ضمانت پر رہائی پر سرگوشیاں ہوتی رہیں ۔ شام کے وقت راجہ سنگھ کو ضمانت پر رہاء کئے جانے کی اطلاع کے ساتھ ہی حساس علاقوں میں پولیس کی طلایہ گردی میں اضافہ کیا گیا اور پکٹس تعینات کئے گئے ۔تالاب کٹہ‘ بھوانی نگر‘ نشیمن نگر ‘ کوٹلہ عالیجاہ ‘ اعتبار چوک،چنچل گوڑہ‘ دبیر پورہ‘ملک پیٹ کے علاقوں میں بیشتر بازار بند رہے اور مختلف مقامات پر نوجوانوں نے احتجاج منظم کرتے ہوئے نعرہ لگائے ۔راجہ سنگھ کی گرفتاری کے ساتھ ہی بیگم بازار کے ہول سیل تاجرین کے بازاروں کو بند کروایا گیا اور انہیں احتجاج میں شامل ہونے کے لئے مجبور کرنے کی کوشش کی گئی ۔م