پولیس کی ناکامی ،تکنیکی بنیاد پر پولیس ریمانڈ میں دینے سے عدالت کا انکار
تحقیقات کی تکمیل تک گوشہ محل رکن اسمبلی بی جے پی سے معطل
ایس ایم بلال
حیدرآباد۔23۔اگسٹ : حلقہ گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کو حیدرآباد پولیس نے شان رسالت ﷺ میں گستاخانہ ریمارکس کرنے اور اس کا ویڈیو عام کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔ پولیس نے اس ضمن میں پولیس اسٹیشن دبیر پورہ اور پولیس اسٹیشن منگل ہاٹ میں مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا لیکن پولیس عہدیداروں کی لاپرواہی کے نتیجہ میں ضمانت پر رہا ہوگیا ۔ تفصیلات کے مطابق راجہ سنگھ نے اپنے یوٹیوب چینل ’’سری رام تلنگانہ‘‘ پر /20 اگست کو ایک انتہائی قابل اعتراض ویڈیو جاری کرتے ہوئے شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا ۔ حالانکہ پولیس نے فوری طور پر حرکت میں آکر راجہ سنگھ کو گرفتار تو کرلیا لیکن ضابطہ کی کارروائی میں فقدان کے نتیجہ میں ملزم رکن اسمبلی کی ضمانت پر رہائی عمل میں آئی ۔ راجہ سنگھ کو آج صبح اس کے مکان واقع منگل ہاٹ سے کمشنر ٹاسک فورس پولیس نے منگل ہاٹ پولیس اسٹیشن میں درج شدہ ایک مقدمہ میں گرفتار کرکے بولارم پولیس اسٹیشن منتقل کیا اور شام کو نامپلی میٹروپولیٹین کورٹ میں پیش کیا ۔ جیسے ہی رکن اسمبلی کو 14 ویں ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹین مجسٹریٹ جو فرقہ وارانہ نوعیت کے کیسیس کی خصوصی عدالت بھی ہے کے اجلاس پر پیش کیا اور 14 دن کی عدالتی تحویل میں دینے کیلئے استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ۔ اس پولیس ریمانڈ رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے راجہ سنگھ کے وکیل کرونا ساگر نے عدالت کو یہ واقف کروایا کہ منگل ہاٹ پولیس نے راجہ سنگھ کی گرفتاری کیلئے سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری نہیں کی ہے اور سی آر پی سی کے دفعہ 41A کے تحت نوٹس دیئے بغیر ہی انہیں گرفتار کرلیا گیا ۔ اس استدلال پر مجسٹریٹ نے تکنیکی بنیاد پر پولیس ریمانڈ رپورٹ کو مسترد کردیا جس کے فوری بعد بی جے پی رکن اسمبلی کے وکیل نے درخواست ضمانت پیش کردی ۔ مختصر بحث کے بعد مجسٹریٹ نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کردیا اور عدالت کے دفتری اوقات کی تکمیل ہونے کے باوجود بھی شام 7 بجے راجہ سنگھ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ۔ عدالت نے رکن اسمبلی کو شخصی ضمانت کے علاوہ اسے اچھے برتاؤ کیلئے پابند مچلکہ کیا ۔ منگل ہاٹ پولیس اسٹیشن میں آغا پورہ کے ساکن قدیر خان کی شکایت پر پولیس نے تعزیرات ہند کا دفعات 153A ، 295A ، 504 ، 505(2) اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا اور یہ تمام دفعات کے تحت صرف سزاء صرف 7 سال کی ہوسکتی ہے اور ان دفعات کیلئے ملزم کو گرفتاری سے قبل سی آر پی سی کے د فعہ 41A کے تحت نوٹس جاری کرنا لازم ہے اور عدالت عالیہ کے اس رہنمایانہ خطوط پر عدم عمل آوری پر متعلقہ عدالت کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ مجسٹریٹ نے استغاثہ کے دباؤ کے باوجود بھی راجہ سنگھ کی پولیس ریمانڈ رپورٹ قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ جس کے بعد پولیس عہدیدار پس و پیش کا شکار ہوگیا۔راجہ سنگھ کی اس حرکت نے بین الاقوامی سطح پر برہمی پیدا کردی ہے لیکن پولیس کی گرفتاری اور اسی دن ضمانت پر رہائی سے یہاں کی عوام مزید ناراض ہوگئی ہے ۔ عدالت کی جانب سے ضمانت منظور کئے جانے پر راجہ سنگھ نے احاطہ عدالت میں اپنے وکلاء کے ساتھ خوشیاں منائی اور بعد ازاں اپنی ذاتی بولٹ پروف کار میں مکان کیلئے روانہ ہوگیا ۔ قبل ازیں بی جے پی رکن اسمبلی کو عدالت میں پیش کئے جانے کے دوران احاطہ عدالت کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا اور کورٹ کے باہر دو گروپس میں نعرے بازی پر ٹاسک فورس نے دونوں گروپس کو منتشر کرنے کیلئے جم کر لاٹھی چارج کیا ۔راجہ سنگھ کے گستاخانہ ویڈیو کے کل رات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سے ہی شہر میں ماحول انتہائی کشیدہ ہوگیا اور مسلمانوں میں شدید برہمی اور غم و غصہ دیکھاگیا۔ دوسری طرف بی جے پی کی مرکزی تادیبی کمیٹی نے راجہ سنگھ کے گستاخانہ بیان کے بعد انہیں اس واقعہ کی تحقیقات تک پارٹی سے معطل کردیا اور کہا کہ یہ پارٹی کے قواعد کے خلاف ہے ۔
راجہ سنگھ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 دن میں جواب دینے کی ہدایت بھی دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ کیوں نہ اس بیان کیلئے انہیں پارٹی سے برخواست کردیا جائے ۔
دبیرپورہ ، منگل ہاٹ ، بہادر پورہ کے علاوہ شہر حیدرآباد اور رچہ کونڈہ کے مختلف پولیس اسٹیشن میں راجہ سنگھ کے خلاف ایف آئی آر جاری کئے گئے ہیں لیکن منگل ہاٹ کے مقدمہ میں ہی اس کی گرفتاری عمل میں لائی اور دیگر تمام مقدمات کو یکجا کردیا گیا ۔ شہر حیدرآباد میں پولیس کی ہنوز چوکسی برقرار ہے اور پٹرولنگ میں شدت پیدا کردی گئی ہے ۔