شان رسالتؐ میں بی جے پی رکن اسمبلی کی پھر گستاخی پر نوجوانوں کا پیر کی رات دیر گئے کمشنر آفس بشیر باغ اور مختلف پولیس اسٹیشنوں پر مظاہرہ
پولیس اسٹیشن دبیر پورہ پر زبردست احتجاج کے درمیان رکن اسمبلی احمد بلعلہ کی آمد
منگل کی صبح چارمینار و دیگر علاقوں میں بھی احتجاج، کئی جگہ بند منایا گیا
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔23۔اگست۔نوجوانان شہر نے خودکو عملاً غلامی سے آزاد کرتے ہوئے حالات کو سمجھنے اور ان کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی حکمت عملی کا تعین کرنے کے بعد اقدام نظریہ کو ترک کردیااور جب بات شان رسالت ؐ میں گستاخی کی آئی تو یہی سمجھ بوجھ اور فہم و فراست کا شکار گوشے اپنے لئے جائے عافیت تلاش کرتے نظر آتے ہیں لیکن جن نوجوانوں کو سماج کیلئے بے کار اور ایک طرح سے بوجھ بھی کہا جاتا ہے وہی دیوانے اپنا گریبان چاک کروانے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں اور وہ ذمہ داری پوری کردیتے ہیں جو اہل خرد کی ہونی چاہئے ۔ کل رات شہر میں جب ایک ملعون نے شان رسالت ؐ میں گستاخی کی مذموم حرکت کی تو شہر کے گلی کوچوں میں چبوترے آباد کرنے والے نوجوانوں نے ہی اس پر سب سے پہلے صدائے احتجاج بلند کیا اور شہر کے کئی پولیس اسٹیشنوں کے سامنے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوگئے اور انہوں نے اپنے پیارے آقا ﷺکی محبت میں نتائج کی پرواہ کئے بغیر سارے شہر کو ایک طرح سے ’ بیدار ‘ کرنے میں کامیابی حاصل کی اور جب ان کے احتجاج کی شدت اور ان کے جذبات کو محسوس کیا جانے لگا تو سماج کے چند ذمہ دار بھی اس کا حصہ بننے پر مجبور ہوگئے ۔ وہ جو خود کو مسلمانوں کا ذمہ دار ‘ حصہ دار ‘ دعویدار اور ٹھیکے دار کہتے نہیں تھکتے وہ 24 گھنٹوں بعدبھی کہیں نظر نہیں آئے ۔ ہزاروں نوجوانوں سیاسی و مذہبی قیادت کے بغیر گستاخ رسولﷺ کے خلاف کاروائی کے لئے منظم اور پرامن انداز میں جدوجہد کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ ناموس رسالتؐ کے معاملہ میں کوئی سمجھوتہ یا کسی کا انتظار نہیں کیا جاسکتا بلکہ فوری ردعمل اور سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور پولیس کو کاروائی کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے۔ بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ کی زہر افشانی اور بے ہودہ گفتگو پر کسی سیاسی یا مذہبی بیان اور ردعمل کا انتظار کئے بغیرنوجوانان حیدرآباد نے 22 اور23 اگست کی درمیان شب شہر کے بیشتر پولیس اسٹیشنوں میں تحریری شکایات حوالہ کرتے ہوئے راجہ سنگھ کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کمشنر آفس بشیر باغ کے روبرو سڑک پر دھرنا دیا۔ نوجوانان حیدرآباد کے اس شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے راجہ سنگھ کو پارٹی سے معطل کرنے کے احکامات جاری کئے اور اسے نوٹس وجہ نمائی جاری کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیوں انہیں پارٹی سے برطرف کرنے کے اقدامات نہیں کئے جانے چاہئیں ۔عدالت میں پیشی کے بعد جج نے راجہ سنگھ کی ضمانت منظور کرلی ۔رات دیر گئے شروع ہوئے اس احتجاجی دھرنے کا سلسلہ صبح 8 بجے تک جاری رہا اور اس احتجاجی دھرنے کے دوران کمشنر آفس کے روبرو سینکڑوں نوجوانوں نے نماز فجر باجماعت اداکی۔بشیر باغ کمشنر آفس کے روبرو احتجاجی دھرنا منظم کرنے والے مظاہرین نے اس موقع پر موجود عہدیداروں پر واضح کردیا کہ وہ گستاخ کی گرفتاری کے بغیروہاں سے نہیں ہٹیں گے حالانکہ پولیس نے انہیں ہٹانے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے لیکن اس کے باوجود نوجوانوں کے عزم مصمم کے آگے عہدیدار بے بس نظر آرہے تھے ۔ صبح 8بجے کے قریب پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کو حراست میں لینے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے انہیں شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنو ں کو منتقل کردیا اور اسی دوران پولیس کی ایک اور ٹیم نے بی جے پی رکن اسمبلی حلقہ گوشہ محل کو اس کے گھر سے گرفتار کرلیا۔ کٹرپسند اورفرقہ وارنہ ہم آہنگی کو متاثرکرنے والے یوٹیوب چیانل ’جئے سری رام‘ پر راجہ سنگھ نے انتہائی بے ہودہ اور ناشائستہ ویڈیو شئیر کیا جس میں نہ صرف رسول صلعم کی شان میں گستاخی کی گئی بلکہ مسلمانوں کے متعلق انتہائی گھٹیا زبان کا استعمال کیا گیا۔اس ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شان رسالتﷺ میں کی گئی گستاخی کے خلاف شکایت درج کروانے اوراحتجاج کا سلسلہ شروع کردیا۔ پرانے شہر کے پولیس اسٹیشنوں بھوانی نگر‘ رین بازار‘ مادنا پیٹ‘ دبیر پورہ‘ چارمینار‘ حسینی علم ‘ میرچوک ‘ ٹپہ چبوترہ کے علاوہ دیگر مقامات پرسینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں نے جمع ہوکر احتجاج کیا ۔اسی اثناء میں کمشنر پولیس آفس بشیر باغ کے پاس نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سڑک کے ایک جانب بیٹھ کر احتجاج کا آغاز کرتے ہوئے گستاخ راجہ سنگھ کی گرفتاری کا مطالبہ شروع کردیا اور گرفتاری سے قبل احتجاج کو نہ روکنے کا اعلان کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی کرنے لگے۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے احتجاجی نوجوانوں کو ایف آئی آر کے اندراج کے متعلق واقف کروایا اور انہیں واپس چلے جانے کی تلقین کرنے لگے لیکن نوجوانوں نے واضح کردیا کہ ملعون کی گرفتاری تک وہ احتجاج کو ختم نہیں کریں گے کیونکہ سابق میں بھی اس نے اس طرح کی کئی حرکتیں کی ہیں اور ایف آئی آر درج کی گئی لیکن اس کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ نوجوانوں نے پولیس کی اپیل کو مستردکرتے ہوئے سڑک پر باجماعت نماز فجر ادا کی اور اس وقت بھی ان کی قیادت کے لئے کوئی موجود نہیں تھا۔ پولیس نے نوجوانوں کے احتجاج کو منتشر کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے بھیس میں موجود پولیس کے آلۂ کاروں کے علاوہ بعض دیگر سرکردہ افراد کو استعمال کرنے کی کوشش کی جو ناکام ثابت ہوئی ۔ رات دیر گئے نوجوانوں کی بڑی تعداد کے سڑکوںپر نکل آنے اور پولیس اسٹیشنوں پر احتجاج اور شکایات درج کروائے جانے کی اطلاع کے ساتھ ہی رکن اسمبلی ملک پیٹ جناب احمد بن عبداللہ بلعلہ پولیس اسٹیشن دبیر پورہ پہنچ گئے اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے بات کی ۔علاوہ ازیں بھوانی نگر پولیس اسٹیشن میںڈاکٹر ثمینہ کارپوریٹر تالاب چنچلم نے راجہ سنگھ کے خلاف نوجوانوں کی بڑی تعداد کے ساتھ پہنچ کر شکایت درج کروائی جبکہ دبیر پورہ پولیس اسٹیشن پہنچنے والوں میں کارپوریٹر چھاؤنی محمد عبدالسلام شاہد شامل تھے۔ اس کے علاوہ چارمینار پولیس اسٹیشن اور حسینی علم پولیس اسٹیشن میں مصطفی علی مظفر کارپوریٹر شاہ علی بنڈہ نے اپنے ساتھیوں اور نوجوانوں کے ہمراہ پہنچ کرشکایت درج کروائی ۔ذاکر باقری کارپوریٹر دتاتریہ نگر نے اپنے علاقہ کے نوجوانوں اور حامیوں کے ساتھ ٹپہ چبوترہ پولیس اسٹیشن پہنچ کرشکایت درج کروائی۔ صبح کی اولین ساعتوں میں رکن اسمبلی بلعلہ کمشنر پولیس کے دفترکے پاس موجود احتجاجیوں سے ملاقات کے لئے پہنچے اور انہیں اس بات سے واقف کروایا کہ پولیس نے جلد راجہ سنگھ کو گرفتار کرنے کا تیقن دیا ہے لیکن اس کے باوجود نوجوانوں نے گرفتاری تک احتجاج کے مقام سے نہ ہٹنے کے فیصلہ سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس راجہ سنگھ کو گرفتار کرتی ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنا احتجاج ختم کرتے ہوئے واپس چلے جائیں گے۔ شہرکے مختلف علاقوں میں مسلم نوجوانوں میں پائی جانے والی برہمی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے صبح احتجاجی نوجوانوں کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ راجہ سنگر کی گرفتاری کو بھی یقینی بنایا۔ دونوں شہرو ںکے علاوہ ریاست کے اضلاع ورنگل ‘ نظام آباد‘ محبوب نگر ‘ میدک‘ عادل آباد اور دیگر علاقو ںمیں مسلمانوں پر امن اور منظم انداز میں احتجاج کرتے ہوئے بازاروں کو بند رکھا اور سیاہ پرچم لگاتے ہوئے گستاخ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔احتجاجی نوجوان رکن اسمبلی کے خلاف پی ڈی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ وہ مسلسل اس طرح کی اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے بیانات کے مرتکب بن رہا ہے جو مسلم طبقہ کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں۔ صبح احتجاجی نوجوانوں کو حراست میں لئے جانے اور راجہ سنگھ کو گرفتار کئے جانے کے بعد شہر کے مختلف علاقو ںمیں بازار بند کروائے گئے اور مختلف مقامات پر سیاہ پرچم نصب کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا ۔جن علاقوں میں تاجرین نے رضاکارانہ طور پر اپنے تجارتی ادارو ںکو بند رکھا تھا ان علاقوں میں پولیس کے ذریعہ بازاروں کی کشادگی کے لئے دباؤ ڈالنے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں اس کے باوجود شہر میں اضطراب آمیز سکون دیکھا گیا۔ایچ وائی سی نامی تنظیم کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی احتجاجی مظاہروں میں موجود تھی۔رات دیر گئے شہر کے تمام علاقوں میں پولیس کی جانب سے طلایہ گردی میں اضافہ کردیا گیا تھا اور شاہ عنایت گنج‘ بیگم بازار کے لودھا واڑی علاقہ کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں صیانتی انتظامات میں اضافہ کردیا گیا ۔ (متعلقہ خبر صفحہ آخر پر…)