سخت سزاؤں سے ہی جرائم کا سدباب ہوگا ، حکومت سے صدر مجلس علماء دکن کی اپیل
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اگست : ( راست ) : مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری الشطاری معتمد صدر مجلس علماء دکن ، مولانا ڈاکٹر سید گیسودراز خسرو حسینی سجادہ نشین روضہ منورہ گلبرگہ شریف ، مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری ، مولانا جسٹس سید شاہ محمد قادری ، مولانا مفتی خلیل احمد ، مولانا سید حسن ابراہیم حسینی سجاد پاشاہ قادری ، مولانا سید محمود بادشاہ قادری زرین کلاہ ، مولانا ڈاکٹر سید محمود صفی اللہ حسینی وقار پاشاہ قادری ، مولانا سید اولیاء حسینی مرتضیٰ پاشاہ قادری ، مولانا سید آل مصطفی علی پاشاہ قادری الموسوی ، مولانا سید شیخن احمد کامل بادشاہ قادری الشطاری ، مولانا ڈاکٹر سید علی حسینی علی پاشاہ قادری ، مولانا سید قطب الدین حسینی زید صابری ، مولانا مفتی سید صغیر احمد نقشبندی ، مولانا مشہود احمد اور مولانا ڈاکٹر سید بدیع الدین صابری معزز اراکین صدر مجلس علماء دکن نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ ملعون رکن اسمبلی گوشہ محل کی شان رسالتؐ میں گستاخانہ بکواس کی ہم سب پر زور مذمت کرتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں سارے ملک ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچی ہے اس کا ازالہ ممکن نہیں ۔ کیوں کہ یہ مسلمانوں کے ایمان کا معاملہ ہے ۔ بارہا مسلمانوں نے اعلان کردیا ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک حضور ﷺ کی ذات اقدس ہماری جانوں سے زیادہ عزیز ہے ۔ آپؐ کی شان اقدس میں ذرا سی گستاخی کو بھی مسلمان برداشت نہیں کرتے ۔ چند ماہ قبل بی جے پی کی سابق خاتون ترجمان نے بھی شان رسالتؐ میں گستاخی کی اور دنیا بھر میں لعنتی قرار دی گئی اور ملک کی رسوائی ہوئی ۔ دستور ہند کے بموجب ملک میں امن و امان کی برقراری اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے قانون کی بالا دستی کو اہمیت حاصل ہے ۔ ان قوانین میں رخنہ ڈالنے والے عناصر کی سرکوبی کرنا حکومت کے فرائض منصبی میں داخل ہے ۔ ایسے ملزمین کے ساتھ ذمہ داران حکومت کا نرم رویہ اختیار کرنا ان ملزمین کی پشت پناہی کے مترادف ہے ۔ ہمارا حکومت سے پر زور مطالبہ ہے کہ وہ ایسے ملعون گستاخ رسولؐ کی دوبارہ ناقابل ضمانت گرفتاری کے ذریعہ سخت سزائیں دے تاکہ پھر اور کوئی ایسی جرات نہ کرسکے ۔ عامتہ المسلمین سے ہماری اپیل ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں ، اپنے اتحاد کو برقرار رکھیں اور ایسے نازک وقت میں سوشیل میڈیا پر جزوی اختلافات سے پرہیز کریں ۔۔