٭ معطل بی جے پی رکن اسمبلی کیخلاف منگل کی تکنیکی خامی دور کرنے کے بعد پولیس کی کارروائی
٭ عادی شرپسند ایم ایل اے کا ایک اور دھمکی آمیز ویڈیو کلپ وائرل، جیل جانے کی پرواہ نہیں
حیدرآباد : /25 اگست (سیاست نیوز) شان رسالتؐ میں گستاخی کرنے والے معطل شدہ بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کو حیدرآباد پولیس نے دوبارہ گرفتار کرکے آج جیل بھیج دیا ۔ اس مرتبہ گستاخ پر پولیس نے سخت پی ڈی ایکٹ نافذ کرتے ہوئے طویل عرصہ کیلئے جیل بھیج دیا ہے ۔ گستاخانہ ویڈیو عام کرنے پر دو دن قبل راجہ سنگھ کو پولیس نے گرفتار کیا تھا لیکن تکنیکی بنیاد پر اُسی دن ضمانت پر رہا ہوگیا تھا ۔ شہر میں موجودہ کشیدہ حالات کے پیش نظر سٹی پولیس نے راجہ سنگھ کو گرفتار کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا اور اس ضمن میں آج صبح منگل ہاٹ اور شاہ عنایت گنج پولیس اس کے مکان پہنچ کر سی آر پی سی کے دفعہ 41A کے تحت نوٹس حوالے کی ۔ منگل ہاٹ پولیس نے جاریہ سال فبروری میں راجہ سنگھ کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا تھا جس میں اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے دوران رکن اسمبلی نے سوشل میڈیا پر مسلمانوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ یوگی یوگی کا نعرہ لگائیں اور بی جے پی کو ہی ووٹ دیں ۔ یوگی کے خلاف ووٹ دینے پر مسلمانوں کی نشاندہی کی جائے گی اور ان کے مکانات کو بلڈوزر کے ذریعہ منہدم کردیا جائے گا ۔ اسی طرح شاہ عنایت گنج پولیس نے بھی رام نومی کے موقع پر بیگم بازار چھتری کے قریب اشتعال انگیز تقریر کرتے ہوئے دونوں فرقوں میں منافرت پھیلانے کی کوشش کرنے پر مختلف دفعات کے تحت ایک مقدمہ درج کرکے اسے تحقیقات کیلئے زیرالتواء رکھا تھا ۔ چونکہ گرفتاری کے بعد فوری رہائی سے پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پولیس کمشنر حیدرآباد سی وی آنند نے راجہ سنگھ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلہ میں پی ڈی ایکٹ نافذ کردیا ۔ کمشنر پولیس کے مطابق راجہ سنگھ کا سال 2004 ء سے مجرمانہ ریکارڈ ہے اور وہ جملہ 101 وارداتوں میں ملوث ہے جس میں 18 مقدمات فرقہ وارانہ نوعیت کے ہیں ، راجہ سنگھ ایک فرقہ وارانہ روڈی شیٹر بھی ہے ۔ پولیس کی جانب سے تازہ ترین نوٹس جاری کرنے کے بعد راجہ سنگھ نے پھر ایک مرتبہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک بیان جاری کیا جس میں یہ کہا کہ وہ جیل یا گولیوں سے نہیں گھبراتا اور اس نے ہر ہندو سے دھرم یودھ کیلئے تائید و حمایت کی اپیل کی ۔ اس ویڈیو کے بعد پولیس اچانک سرگرم ہوگئی اور گرفتاری کیلئے اس کے مکان پہنچ گئی ۔ پی ڈی ایکٹ کے احکامات جاری کرنے کیلئے آج ٹاسک فورس کی ٹیم منگل ہاٹ پولیس اسٹیشن کے ہمراہ راجہ سنگھ کے مکان پہنچی اور اسے کمشنر کے احکامات حوالے کرنے کے بعد فوری گرفتار کرلیا گیا اور کچھ ہی دیر میں اسے گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا جہاں پر اس کا طبی معائنہ کیا گیا ۔ راجہ سنگھ کو گرفتار کرنے کیلئے بھاری پولیس فورس اس کے مکان واقع منگل ہاٹ پہنچنے پر اس کے حامی بھی وہاں پر جمع ہوگئے اور پولیس کی کارروائی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اس کی منتقلی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنادیا ۔ بعد ازاں پولیس نے سخت سیکوریٹی کے درمیان بی جے پی رکن اسمبلی کو چرلہ پلی جیل منتقل کیا جہاں پر اسے مانسا بیرک میں قید رکھا گیا ہے ۔ پی ڈی ایکٹ نافذ کرنے والے احکامات میں کمشنر پولیس نے یہ بھی کہا کہ راجہ سنگھ مسلسل شہر کے امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے اور مسلسل فرقہ وارانہ نوعیت کے کیسیس میں ملوث ہونے پر لا اینڈ آرڈر کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ اس ضمن میں منگل ہاٹ پولیس نے کمشنر پولیس کے ذریعہ جاری کئے گئے پی ڈی ایکٹ وارنٹ کی تعمیل کرتے ہوئے اسے جیل بھیج دیا ۔ کمشنر پولیس نے پی ڈی ایکٹ نافذ کرنے کیلئے جاری کئے گئے احکامات میں یہ کہا کہ رکن اسمبلی کی زہرافشانی سے تشدد ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فساد کیلئے عوام مشتعل ہوسکتے ہیں جس کے نتیجہ میں عوام کے جان و مال کو خطرہ ہوسکتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں قومی یکجہتی اور داخلی سلامتی کو بھی خطرہ ہے جبکہ ہندوستانی دستور کے آرٹیکل 19 اور 21 کے تحت دیئے گئے حقوق کی پامالی کا بھی خطرہ ہوگیا ہے ۔ راجہ سنگھ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دونوں شہروں میں اچانک احتجاج و مظاہرے بھڑک اٹھے اور دونوں فرقوں سے وابستہ افراد کے جان کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور شہر کی عوام میں خوف و ہراس کا ماحول بھی پیدا ہوگیا ہے ۔ قانونی امن و ضبط کی برقراری کیلئے ملزم رکن اسمبلی کو جیل میں قید رکھنا ضروری ہے اور اس ضمن میں 1986 ء کے پی ڈی ایکٹ نمبر 1 کے تحت کمشنر پولیس نے راجہ سنگھ پر یہ احکام نافذ کیا ہے ۔ /22 اگست کو بھی راجہ سنگھ نے شری رام چینل تلنگانہ پر شان رسالتؐ میں گستاخی کرتے ہوئے ایک ویڈیو وائرل کیا تھا جس پر منگل ہاٹ پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا ۔ لیکن سی آر پی سی کی نوٹس حوالے کئے بغیر گرفتاری عمل میں لانے پر متعلقہ مجسٹریٹ نے پولیس کی ریمانڈ رپورٹ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے راجہ سنگھ کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا تھا ۔