گلبرگہ ۔19۔ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ہندوستان کا دستور ایکسیکولر مزاج کا دستور ہے اور یہ کسی مخصوص مذہب کے لوگوں یا کسی طبقہ ک کی مخالفت نہیںکرتا ۔ یہ بات بنیادی حقوق کے دائیرہ میں آتی ہے۔ لیکن آپ این آر سی یا شہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانا چاہ رہے ہیں ،لیکنہم اس کی اجازت ہر گز نہیں دے سکتے ۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ کنیز فاطمہ قمرالاسلام رکن اسمبلی گلبرگہ شمال نے 19دسمبر کو ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر سرکل جگت ، گلبرگہ پر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ایک زبردست ہمہ جماعتی احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس جلسہ میں بلا لحاظ مذہب و ملت لاکھوںعوام شریک تھے۔ محترمہ کنیز فاطمہ نے حکومتی نمائندوںکو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ پڑوسی ممالک میں اقلیتوں پر ظلم و ستم کا پروپگنڈہ کررہے ہیں اور ان کی فکر کررہے ہین لیکن خود اپنے ملک کی اقلیتوں کو حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ممتاز عوامی قائدجناب الیاس سیٹھ باغبان صدر جمعیت باغبان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور صرف اللہ سے ڈرتے ہیں ،کسی سے بھی نہیں ڈرتے۔ ہماری لڑائی ہمارے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے ہے جسے ہم آخری وقت تک اور نتیجہ حاصل ہونے تک لڑتے رہیں گے۔ ہر دل عزیز قائد جناب وہاج بابا ایڈوکیٹ نے اپنی تقریر میںکہا کہ ہندوستان کا دستور ساری دنیا میں اپنی وسعت نظری اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے اہمیت رکھنے ولا دستور سمجھا جاتا ہے ۔ایسے دستور کی حفاظت کے بجائے آپ ایسے دستور کی مخالفت کررہے ہیں ۔ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اس سے ساری دنیا میں ہندوستان کا وقار متاثر ہورہا ہے ۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل سابق صدر نشین گلبرگہ اربن ڈیولوپمینٹ اتھارٹی نے ایس ٹی بی ٹی کے قریب اپنی تقریر میں کہا کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے ذریعہ ہندوستان کو مذہب کی بنیاد پر دوبارہ تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا مقصد اصل بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ اپنی نا اہلی چھپانے کیلئے نئے نئے مسائل کھڑے کئے جارہے ہیں ۔ مسائل گھڑے جارہے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے ملک بھر میں پولیس کے مظالم اور دلتوں، خواتین اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ ممتاز قانون دان و قائد جنتا دل وسیکولر جناب ناصر حسین استاد نے کہا کہ یہ فرقہ پرست طاقتیں ملک کے اتحاد کو ختم کرنا چاہ رہی ہیں اور ہندو راشٹرا کے قیام کے ذریعہ اس دیش سے مسلمانوں کا صفایہ کرنے کی تیاری کررہی ہیں ۔ مذکورہ بالا احتجاجی جلسہ میں ایس یو سی سی آئی ، ایڈسو ، مسلم لیگ، مسلمانوں کے تمام مسالک کے نمائندوں کے علاوہ جناب فراز الاسلام، جناب نجم السلام احمر، عادل سلیمان سیٹھ ، بابا نذر محمد خان ، اورکئی ایک جماعتوں ، تنظیموںکی اہم شخصیات و ارکا ن نے شرکت کی ۔ دریں ،سٹر ایچ وی دیواکر ضلعی سیکریٹری سوشلسٹ یونٹی سنٹر آف انڈیا (کمیونسٹ پارٹی) کے صحافتی بیانکے بموجب ایس یو سی آئی کمیونسٹ کے قائدین و ارکان نے شہریت ترمیمی بل کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے گلبرگہ میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ قائیدین نے کرناٹک کی بی جی پی حکومت کی جانب سے گزشتہ تین دنوں سے ریاست میں امتناعی احکامات نافذ کرنے کی بھی مخالفت کی ۔ انکا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات ، تجارتی خساروں، قیمتوں میں اضافہ ، اور خواتین پر ظلم و زایدتی کے واقعات کو چھپانے کے لئے مرکزی حکومت نے اس طرح کا قانون منظور کروایا ہے۔ اس قانون کی مخالفت میں صرف دہلی کے طلبا نے ہی نہیں بلکہ سارے ملک کے طلبا اور عوام بلا لحاظ مذہب و ملت احتجاج کررہے ہیں ۔ سیکولر ازم اور ملک کے دستور پر یقین رکھنے والے سارے عوام اور سارے مذاہب کے لوگ اس بل کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں ۔ اس طرح کے ملک گیر احتجاج کے سبب وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے علاوہ کرناٹک کی بی جے پی حکومت پریشان ہے۔ اس طرح اس بی جے پی سرکار کی پریشانی دراصل عوام کی کامیابی ہے۔ ان حالات کی روشنی میںحکومت کو چاہئے کہ وہ یہ بل فوری طور پر واپس لے ۔ تاکہ ملک کے عوام کو باوقار زندگی گزارنے کا موقع مل سکے ۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل چوک پر ایس یو سی آئی کے سینکڑوں کارکنان اور قائیدین نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف زبردست احتجاج کیا ۔ اس احتجاج میں ایس ایم شرما ، وی جی دیسائی، مہیش ناڈ گوڈ، ہنمنت ایس ایچ لنگنا، ،جمگی، بھیما شنکر پاٹل ، گنپت رائو، ، کے مانے ، جبن ناتھایس ، ایس راجیندرا، اتنور، بلی رام اھیا، الینہا ، شلپا ، بی کے منجولا اور گوداوری کے علاوہ سینکڑوں کارکنان شریک تھے۔ اطلاعات کے بموجب پولیس نے چند احتجاجیوں کو گرفتار کیا اور بعد میں انھیں رہا کردیا گیا ۔ ،