ملازمین ٹرانسپورٹ کا احتجاج جاری ، سرکاری ملازمین کے مساوی درجہ دینے کا مطالبہ
گلبرگہ : اتور کے دن بھی گلبرگہ میں این ای کے ایس آر ٹی سی اور این ڈبلیو کے ایس آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے سبب بسوں کی آمد و رفت بند رہی ۔ اس طرح علاقہ کے مسافرین کو بسوں کی آمد و رفت بند ہونے سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گلبرگہ سے تیلنگانہ و حیدر آباد اور مہاراشٹرا کے لئے چلنے والی بسوں کی آمد و رفت بھی بند رہی ۔ شدید ضرورت مند مسافروں کو زیادہ رقم اداکرکے ٹیکسیوں اور خانگی موٹر گاڑیوں سے سفر ادا کرنا پڑا۔ اینای کے ایس آرٹی سی کو ملازمینکی اس ہڑتال سے روزانہ کم ازکم دو کروڑ روپیوں کا نقصان ہورہا ہے۔اس کے 19000ملازمین ہیں اور جملہ 4000بسیںہیں ۔ آر ٹی سی ملازمین اپنی تنخواہوںکے بقایہ جات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ حکومت سے یہ مطالبہ کررہے ہیںکہ انھیں بھی دیگر ریاستی سرکاری ملازمین کی طرح سرکاری ملازمین کا درجہ دیایا جائے اور ان کی تنخواہوں اور وظیفہ کی رقم کا معیار بھی ریاستی سرکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں اور وظیفہ کی رقم کے مساوی کردیا جائے ۔ اس کے علاوہ کے ایس آر ٹی سی ملازمین کو بھی وہ ساری مراعات دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو ریاستی سرکاری ملازمین کو حاصل ہیں۔ بس سروسس بندہونے کے سبب مسافرین ریلوے اسٹیشنوںکا بھی رخ کررہے ہیں اور ان دنوں ریلوے اسٹیشنوں پر مسافرین کے زیادہ سے زیادہ ہجوم دیکھے جارہے ہیں ۔ اینای کے ایس آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال آج چوتھے دن گلبرگہ میں پیر کے دن بھی جاری تھی ۔