حوض کی اصل ہیئت اور خوبصورتی کو مسخ کرنے ماہرین آثار قدیمہ کا الزام
حیدرآباد۔19۔ستمبر۔(سیاست نیوز) محکمہ بلدی نظم و نسق کی نگرانی میں پرانے شہر میں واقع گلزار حوض کی تعمیر کو مکمل کرتے ہوئے ماہ جولائی کے دوران اس کا افتتاح انجام دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے اس تاریخی گلزار حوض کی تعمیر و مرمت کو مکمل کرلئے جانے کے باوجود اب تک اس کا افتتاح انجام نہیں دیا گیا ہے ۔ گلزار حوض کی مرمت اور تزئین گوا ور اسے خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کا جاریہ سال کے اوائل میں ماہ فروری کے دوران آغاز کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ماہ جون تک ان کاموں کو مکمل کرلیا جائے گا لیکن ماہ جون کے دوران منظر عام پر آنے والی تصاویرپر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسپیشل چیف سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق مسٹر اروند کمار نے اعلان کیا تھا کہ ما جولائی کے دوران گلزار حوض کو عوامی مشاہدہ کے لئے کھول دیا جائے لیکن اس اعلان کے تین ماہ گذرجانے کے باوجود اب تک گلزار حوض کے اطراف لگائی گئی ٹین شیڈ کو ہٹاتے ہوئے اسے عوامی مشاہدہ کے لئے کھولنے یا اس کے از سر نو افتتاح کے اقدامات نہیں کئے گئے اور نہ ہی اس سلسلہ میں محکمہ کی جانب سے کوئی منصوبہ کا اعلان کیاگیا ہے ۔ذرائع کے مطابق گلزار حوض کے افتتاح کے لئے ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ سے وقت طلب کیاگیا ہے اور ان کی جانب سے وقت فراہم کئے جانے کے بعد ہی اس تاریخی حوض کا افتتاح عمل میں لایا جائے گا۔محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس حوض کی کی تعمیر ومرمت کے علاوہ و آہک پاشی کے بعد اسے انتہائی خوبصورت بنایا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود بعض ماہرین آثار قدیمہ کی جانب سے گلزار حوض کی حقیقی ہئیت کو تبدیل کردئیے جانے کا الزام عائد کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس تاریخی حوض میں ٹائلس کے کام کرواتے ہوئے اس کی حقیقی خوبصورتی کو مسخ کردیا گیا ہے جبکہ کسی بھی آثار قدیمہ کے ورثہ میں اس طرح کی تبدیلی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔گلزار حوض کی ہئیت کو تبدیل کئے جانے کے سلسلہ میں عہدیداروں کا کہناہے کہ حوض کی جو حالت ہوچکی تھی اس کو دوبارہ بحال کیا جانا اور اس میں موجود گندگی کو دور کیا جانا ایک مسئلہ بن چکا تھا اسی لئے اعلیٰ عہدیداروں نے ماہرین آثار قدیمہ سے مشاورت کے بعد ہی اس تاریخی حوض کی تعمیر و مرمت کے اقدامات کئے گئے ہیں۔