حیدرآباد ۔ 12 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : یو اے ای کی جانب سے ہندوستان سے سفر کرنے والے مسافرین پر عائد امتناع کو برخاست کرنے کے بعد حیدرآباد انٹرنیشنل ایرپورٹ سے فلائیٹس معمول کے فضائی کرایہ سے دو گنا کرایہ چارج کررہے ہیں ۔ انڈیگو ، ایر عربیہ ، ایر انڈیا ( ان میں زیادہ تر نان اسٹاپ فلائیٹس ) یو ای اے میں مختلف مقامات کے لیے 20,000 روپئے ( اکانومی ) اور 26000 روپئے کے درمیان کی قیمت کے ٹکٹس کی پیشکش کررہے ہیں ۔ اس کی وجہ گلف میں کام کرنے والے تلنگانہ کے کئی افراد نے ان کے ٹکٹس بک کروانے کے لیے ایک اور ہفتہ انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ راجنا سرسلہ ضلع میں مستاباد کے ساکن تروپتی پارسا نے کہا کہ ’ ہم میں سے بعض لوگوں نے ایک اور ہفتہ تک انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہم امید کررہے ہیں کہ ٹکٹ قیمت معمول پر آجائے گی یا پھر یہ ہمارے لیے کم از کم قابل گنجائش ہوجائے گی ‘ ۔ کوویڈ 19 کی دوسری لہر کے بعد دوبئی سے واپس ہونے والا پرسا اس کی ماں اور بھائی کی برسی میں موجود تھا ان دونوں کی کوویڈ 19 کی پہلی لہر کے دوران موت ہوگئی تھی ۔ پرسا اب گلف واپس ہو کر کام پھر سے شروع کرنا چاہتا ہے ۔ اس کی طرح اس کے گاؤں میں اور پڑوسی ٹاونس میں دیگر کئی لوگ ہیں جو گلف واپس ہونے کے لیے بے چین ہیں لیکن فلائٹ ٹکٹس میں بے تحاشہ اضافہ انہیں مزید کچھ وقت انتظار کرنے پر مجبور کررہا ہے ۔ پرسا نے کہا کہ ’ یہ ہجوم کم ہوجانے پر فضائی کرایہ کی قیمتوں میں ایک ہفتہ میں ہوسکتا ہے کمی ہوگی ‘ ۔ ایمیریٹس کی جانب سے یکطرفہ ٹکٹ کے لیے 35,450 روپئے چارج کئے جارہے ہیں جب کہ وستارا کی جانب سے تقریبا 34,000 روپئے چارج کئے جارہے ہیں ۔ عبید قریشی ، سی ای او ، لنک ہالیڈیز نے کہا کہ ’ ہمارے یہاں آنے والے زیادہ تر لوگوں میں کرایہ کو لے کر کوئی مسائل نہیں ہیں کیوں کہ وہ جلد سے جلد یو اے ای پہنچنا چاہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے وہاں ریگولر جابس ہیں ۔ یو اے ای نے ابھی ویزٹ ویزے جاری کرنا شروع نہیں کیا ہے انہیں ہنوز جاری کیا جانا ہے ‘ ۔ بعض لوگوں نے جنہوں نے ، اس سال کے اوائل میں ان کے آبائی مقامات کو واپس ہوئے ہیں اور امید کررہے تھے کہ وہ ان کی باقی زندگی ہندوستان میں گذاریں گے ۔ ان کے ذہن تبدیل کئے ہیں اور اب وہ زیادہ پیسے کمانے کے لیے یو اے ای واپس ہونا چاہتے ہیں کیوں کہ اخراجات میں اضافہ ہوگیا ہے اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں ۔ ایک سال قبل واپس ہونے والے جے سرینواس نے کہا کہ آپ کریم نگر ، نظام آباد ، عادل آباد اور دوسرے مقامات پر ویکسینیشن سنٹرس پر لوگوں کی طویل قطاریں دیکھ سکتے ہیں ۔ ان میں زیادہ تر لوگ دوبئی یا شارجہ واپس ہونے کے خواہش مند ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں رہ کر اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلا سکتا ہوں ۔ ہجوم کم ہوتے ہی ایک یا دو ماہ میں میں گلف واپس ہو کر مجھے جو بھی جاب ملے کروں گا ۔۔