معیاری سہولیات، ڈیجیٹل لائبریری، عصری ڈائننگ ہال۔ ہم نے وعدے پورے کر دکھائے : کے ٹی آر
٭٭ریاست میںتعلیمی انقلاب کی طرف اہم اور عملی پیشرفت
٭٭ اسکولی کیمپس کو پروفیسر جئے شنکر کے نام سے موسوم کرنے کا اعلان
گمبھی راو پیٹ/ سرسلہ یکم فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی وزیر بلدی نظم نسق و انفارمیشن ٹکنالوجی کے تارک راما راو اور وزیرتعلیم سبیتااندراریڈی نے راجننہ سرسلہ ضلع کے گمبھی راو پیٹ میں آج دوپہر کے جی تا پی جی کیمپس کا افتتاح انجام دیا، جو کہ تلنگانہ کا واحد و پہلا اسکول کامپلکس کہلایا جارہا ہے، بعد ازاں دونوں وزراء نے کیمپس میں جدید ترین سہولیات کے ساتھ قائم کی گئی ڈیجیٹل لائبریری کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ جات کا تفصیلی طور پر معائنہ کیا۔ ہمارا گاوں ۔ ہمارا اسکول ( مناارو منابڈی) پروگرام کے حصہ کے طورپر ریاست تلنگانہ کا پہلا کے جی تا پی جی کیمپس ضلع کے گمبھی راو پیٹ میں قائم کیا گیا، واضح رہے کہ دیہی علاقوں کے طلباء کو کے جی تا پی جی معیاری مفت تعلیم ایک ہی جگہ پر فراہم کرنے کے وزیر اعلی چندرشیکھرراو کے وعدے کے مطابق، وزیر آئی ٹی تارک راما راو کی خصوصی پہل اور کارپوریٹ تنظیموں کے تعاون سے گمبھی راو پیٹ میں ایک جدید کامپلکس تعمیر کیا گیا۔اسے راہیجا کارپ فاؤنڈیشن، مائنڈ اسپیس رائٹ، یشودھا اسپتال، ایم آر ایف، دیوی لیب اور دیگر کے تعاون سے 3 کروڑ کی زائد رقم کی لاگت سے تمام سہولیات کے ساتھ تعمیر کیا گیا ہے۔جہاں جملہ70 کلاس رومس میں 3500طلبہ کو تلگو، انگریزی اور اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جدید طرز کے ساتھ اس تعلیمی مرکز کا آغاز کیاگیا ہے۔آنگن واڑی سنٹر 250 بچوں کے لیے موزوں ہے۔پری پرائمری، بچوں کے لیے کھیلوں کا میدان، پرائمری، ہائی اسکول، جونیئر کالج، ڈگری کالج اور پی جی کالج کی عمارت کے احاطہ میں تعمیر کیاگیا ہے اس کے علاوہ احاطہ میں ایک ڈیجیٹل لائبریری، ایک کمپیوٹر لیب، ایک اسکل ڈیولپمنٹ سنٹر اور ایک ڈائننگ ہال کا انتظام کیا گیا ہے جہاں ایک ہی وقت میں ایک ہزار طلبا کے لئے کھانا کھانے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔تارک راما راو نے اس سلسلہ میں آج منعقد ایک تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بچوں کو بہتر سہولیات کے ساتھ ایک جگہ کے جی سے پی جی تک مفت تعلیم فراہم کرنے وزیر اعلیٰ کی خواہش پوری ہوئی ہے۔تلنگانہ حکومت کے باوقار ہمارا گاوں۔ ہمارا اسکول پروگرام کے تحت یہ کے جی تا پی جی مرکز دستیاب کروایاگیا،کے ٹی آر نے کہا کہ ہم تحریک کے دوران چیف منسٹر کے سی آر کے وعدے کے مطابق تعلیم کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔- ملک میں کہیں بھی سرکاری شعبے میں تعلیمی اداروں کا کیمپس نہیں ہے جبکہ سرسلہ کے گمبھی راوپیٹ کے جی سے پی جی کالج تعمیر کیا گیا، کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ترقیاتی کاموں سے متعلقہ باتیں اور وعدے کرنا آسان ہے بہت سے لوگ بہت باتیں کرتے ہیں لیکن عمل ندارد ہوتا ہے،کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ ہم نے ترقی و فلاح و بہبودی کے کئی وعدے کیے جسے پورا کر کے دکھا رہے ہیں ۔کے ٹی آر نے کہا کہ سرسلہ میں ترقیاتی کاموں سے متعلقہ تمام شعبہ جات کے متعلقہ افراد کے ساتھ جائزہ اجلاس طلب کرتے ہوے ترقیاتی کاموں سے متعلق ایک رپورٹ تیار کی جائے گی جسے عوام کو واقف کروایا جائے گا تاکہ ہم نے علاقے میں کس طرح کے ترقی و فلاح و بہبودی کے کام انجام دئے ۔کے ٹی راما راؤ نے اس موقع پر تلنگانہ کے اس واحد اسکولی کیمپس کو پروفیسر جے شنکر کے نام سے موسوم کرنے کا اعلان کیا اور کلکٹر کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلے میں کاروائی کا آغاز کرے جلسہ کو سبیتا اندرا ریڈی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہم نے ہمارا اسکول ہمارا گاؤں پروگرام کے تحت اسکولوں میں ڈائننگ ہال بنائے ہیں۔ ہم سی ایم کے سی آر کی ہدایت پر تمام سرکاری اسکولوں میں انگریزی میڈیم میں پڑھا رہے ہیں۔سبیتا ریڈی نے کہا کہ ہمارا اسکول ہمارا گاؤں پروگرام کے تحت ڈیجیٹل تعلیم دے رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی واحد حکومت ہے جس نے 5 ہزار طلباء کو بیرون ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مالی امداد فراہم کی ہے۔سبیتا اندراریڈی نے کہا کہ ہم منا ارو مناباڈی پروگرام سے سینکڑوں سرکاری اسکولوں کو ترقی کی طرف گامزن کیا ہے ۔سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ ہم منا اْرو مناباڈی پروگرام کے تحت 7,300 کروڑ روپیے خرچ کرتے ہوے 3 مرحلوں میں 26 ہزار اسکولوں کو ترقی دے رہے ہیں، ہم پہلے مرحلے میں 3,509 کروڑ سے9 ہزار اسکولوں کو ترقی دے رہے ہیں۔انھوں نے کہا کے تارکا راما راؤ کی رہنمائی سے، ہم نے منا اْرو منابڈی پروگرام کے تحت اسکولوں میں ڈائننگ ہال قائم کیے ہیں اس موقع پر ضلع کلکٹر انوراگ جینتی، ضلع ایس پی اکھیل مہاجن، ٹیسکوآپ چیئرمین راویندر راو، ضلع پریشد چیرپرسن ارونا راگھوا ریڈی، کے علاوہ جنگم چکرا کلاپانی محمد احمد موجود تھے،کے ٹی آر کے خطاب سے قبل قبل بی آر ایس اقلیتی قائدین محمداحمد، محبوب علی نواز خان ، عبدالوحید سید قدیر وغیرہ نے کے ٹی آرکو امام ضامن باندھا۔