گنارم اقلیتی اقامتی اسکول میں اسٹاف کی من مانی اور ناقص انتظامات سے طلبہ خوفزدہ

   

پانی کے نل میں برقی شاک سے کئی مرتبہ حادثے، مختلف بنیادی سہولتوں کا فقدان، اعلیٰ عہدیداروں کی توجہ ناگزیر

کاغذ نگر۔ کاغذ نگر کے گنارم مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکول میں طالب علموں کا کوئی پرسان حال نہیںہے، وقت پر ناشتہ نہیں، تفصیلات کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے مائناریٹی طبقے کے لوگوں کو تعلیمی سہولت فراہم کرنے کی غرض سے شہروں سے لے کر دہی علاقوں تک مائناریٹی رسیڈنشیل اسکولوں کا آغاز کرتے ہوئے مائناریٹی طبقہ کے لوگوں کے بچوں کو تعلیمی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ اسکول کا اسٹاپ رسیڈنشیل کیمپس میں رہتے ہوئے بچوں کو تعلیم دے سکے، لیکن گنارم مائناریٹیز رسیڈنشیل کہ اسٹاف دور دراز مقامات سے آکر بچوں کو تعلیم دیتے ہوئے رسیڈنشل اسکول کے پروٹوکال کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جبکہ دوسرے رسیڈنشل اسکولوں میں ٹیچرز کیمپس میں رہتے ہوئے بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے، لیکن کاغذ نگر گنارم مائناریٹیز رسیڈنشیل اسکول میں اس کے برعکس ہے۔ تلنگانہ ریاست کا پسماندہ علاقہ کاغذ نگر سے 5 کلومیٹر کی دوری پرگنارم منارٹی ریسیڈنشیل 1 اورریسیڈنشیل 2چلایا جا رہا ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے حلقہ میں ایس سی رسیڈنشیل،ایس ٹی رسیڈنشل اسکول اور بی سی ہاسٹلوں میں کبھی بھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، اور وقت سے پہلے اکثریتی طلبہ کو تعلیمی ضروری اشیاء کی سہولت فراہم کی جاتی، لیکن اس کے برخلاف کاغذ نگر کیگنارم کے تلنگانہ مینارٹی ریسیڈنشیل اسکول میں ہر تھوڑے دنوں میں طالب علموں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا، کبھی وقت پر ناشتہ نہیں ملتا، کبھی کھانے میں تاخیر ہو جاتی، حد تو یہ ہوگئی کہ بچوں کو ہاتھ دھونے کے لیے لگائے گئے نلوں کے ذریعے آنے والے پانی کے نل میں برقی شاک لگتے ہوئے کئی طلباء حادثے کا شکار ہوگئے، آٹھویں جماعت کا افروز نامی طالب علم کو برقی شاک لگنے سے موقع پر ہی گر پڑا۔ اس کی اطلاع ملتے ہی برقی شاک سے نیچے گرنے والا تلنگانہ مائناریٹی ریزیڈینشل 1 اسکول کا آٹھویں جماعت کا طالب علم افروز کے والدین مائناریٹی رسیڈنشیل اسکول پہنچ کر مائناریٹی رسیڈنشیل اسکول کہ اسٹاف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے علاج کرنے کی غرض سے اپنے ساتھ لڑکے کو مکان لے کر گئے، اس پر والدین کی ریسیڈنشیل اسکول ملازمین کے رویے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وقت پر ناشتہ اور وقت پر کھانا نہ دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس کے باوجود تلنگانہ مائناریٹی رسیڈنشیل اسکول کہ اسٹاف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور خاموش تماشائی بنے رہے، اس کی اطلاع ملتے مقامی اسٹوڈنٹ یونین تنظیموں نے احتجاج کرتے ہوئے مائناریٹی رسیڈنشیل اسکول میں زیر تعلیم طالب علموں کو دوسرے رسیڈنشیل اسکولوں کی طرح تمام تعلیمی سہولت فراہم کرتے ہوئے مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکول کے طالب علموں کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مینارٹی ریسیڈنشیل طالب علموں کو مار پیٹ کرنے والے اسٹاف کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے نلوں میں برقی شاک آنے کے ذمہ دار اور لاپرواہی برتنے والے اسٹاف کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اسٹوڈنٹ تنظیموں کے احتجاج کے بعد اعلیٰ عہدیداروں نے حرکت میں آتے ہوئے مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکول کے طالب علموں کو سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہونے والے اور بچوں کو مار پیٹ کرنے کے جرم میں مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکول پرنسپل ونکٹ پرساد کو ڈیوٹی سے ہٹا کر مائناریٹی اسٹیٹ سیکریٹری آفس حیدرآباد کو اٹیچ کر دیا گیا۔ اس کے باوجود تلنگانہ ٹمریز مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکول کہ اسٹاف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس سلسلے میں کاغذنگر گنارم مائناریٹیز ریسیڈنشیل اسکول میں زیر تعلیم طالب علموں کے والدین نے کہا کہ مایناریٹی رسیڈنشیل اسکول میں ہفتے میں ایک مرتبہ ریاستی اور ضلع سطح کے مایناریٹی اعلی عہدیداروں دورے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیاگیا، تاکہ اعلی عہدیداروں کے ڈر اور خوف سے مقامی اسٹاف ڈیوٹی کے فرائض بہ خوبی انجام دے سکے، مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکول سے 30 کیلومیٹر کی دوری پر ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیئر آفیسر رہنے کے باوجود کم سے کم مہینے میں ایک مرتبہ دورہ نہ کیے جانے پر یہ طلباء کمیٹی میں سوالیہ نشان بنا ہوا ہے اور تشویش پائی جاتی ہے، خصوصی طور پر ڈسٹرکٹ کلکٹر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کم سے کم مہینے میں ایک مرتبہ ڈسٹرکٹ مائناریٹی ویلفیر آفیسر کے دورہ کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے مائناریٹی ریسیڈنشیل اسکول کے طالب علموں کے ساتھ انصاف کریں۔