گنبدان قطب شاہی کو یونیسکو ٹیاگ حاصل ہونے کی امید

   

حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : رامپا مندر کو یونیسکو ورلڈ ہیرٹیج سائیٹس کی فہرست میں شامل کئے جانے کے بعد تلنگانہ سے اس فہرست میں تاریخی گنبدان قطب شاہی کی شکل میں ایک اور داخلہ ہوسکتا ہے اور گنبدان قطب شاہی کو ورلڈ ہیرٹیج سائٹ کا موقف حاصل ہوسکتا ہے ۔ آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کی جانب سے ہیرٹیج تلنگانہ کے اشتراک اور ٹاٹا ٹرسٹس کی مدد کے ساتھ گنبدان قطب شاہی کامپلکس میں عمارتوں کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے سلسلہ میں انتھک کوششیں کی جارہی ہیں ۔ اس کامپلکس میں کئی یادگار عمارتوں کا کامیابی کے ساتھ تحفظ کرتے ہوئے اس ٹیم نے امید ظاہر کی کہ بحالی کا پورا پراجکٹ مکمل ہونے پر وہ اسے یونیسکو کی جانب سے ورلڈ ہیرٹیج سائٹ تسلیم کئے جانے کی کوشش شروع کرسکتے ہیں ۔ آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کے چیف ایگزیکٹیو رتیس نندا نے کہا کہ یونیسکو کی جانب سے ورلڈ ہیرٹیج سائٹ ٹیاگ دینے میں تین بڑے پہلو ہوتے ہیں ۔ سائٹ کا تحفظ ، اس کی حفاظت اور جگہ کی بین الاقوامی اہمیت گنبدان میں مرمتی اور بحالی کے کام کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے جس سے اسے ایک ورلڈ ہیرٹیج سائٹ ٹیاگ کے حصول میں مدد ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گنبدان قطب شاہی کامپلکس ایک نہایت خوبصورت ، منفرد ، سائٹ ہے ۔ نندا نے کہا کہ اس کامپلکس جملہ 80 یادگار عمارتیں ہیں بشمول 40 مقبرے ، 23 مساجد ، سات باؤلیاں ، ایک حمام ، پویلیئنس ، تالاب ، باولیاں ، گارڈن اسٹرکچرس اور احاطہ کی دیواریں ۔ ہر عمارت کی شان کو برقرار رکھنے اور اس یادگار کو اہمیت کو پیش نظر رکھنے یونیسکو پر زور دینے کے لیے تمام کام ماہر کاریگروں کی جانب سے انجام دیتے جارہے ہیں جو پتھر اور چونے سے یہ کام کررہے ہیں ۔ تاہم اس میں کچھ وقت درکار ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تحفظ کے کام کا پہلا مرحلہ بہت پہلے 2018 میں مکمل کیا تھا ۔۔