گنبدان قطب شاہی کی مرمت اور تزئین نو

   

60 فیصد کام مکمل ، اس جگہ اپنی نوعیت کا ایک ہیرٹیج پارک ہوگا
حیدرآباد :۔ گنبدان قطب شاہی ، جو 16 ویں صدی کا گورستان شاہی ہے اور حیدرآباد کا ایک اہم ہیرٹیج سیاحتی مقام ہے ایک نئے چیاپٹر کے لیے تیار ہے ۔ آغا خاں فاونڈیشن ، ہیرٹیج تلنگانہ اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر کی متحدہ کاوشوں سے اب جلد ہی 106 ایکڑ پر محیط اس جگہ پر اپنی نوعیت کا ایک ہیرٹیج پارک ہوگا ۔ اس جگہ موجود 40 مقبروں ، 23 مساجد ، سات باؤلیوں ، تالابوں ، گارڈنس اور دیگر عمارتوں کا تحفظ کیا جارہا ہے اور انہیں بحال کیا جارہا ہے ۔ اس کے مرمتی اور تزئین نو کے بڑے پروگرام کا پہلا مرحلہ 2018 میں مکمل ہوا اور اب یہ کام آخری مراحل میں ہے ۔ آغا خاں ٹرسٹ فار کلچر کی رتیش نندا کے مطابق تاحال اس کے تقریبا 60 فیصد کام مکمل ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’ 2021 میں زائد از ایک درجن یادگار مقامات بشمول پانچ باولیوں کے مرمتی کام اور ان کے تحفظ کے لیے کام امریکہ کے سفیر کے فنڈ کی مدد سے شروع کئے گئے جب کہ محمد قطب شاہ کے مقبرہ کے مرمتی اور تزئین کے کام کے لیے انڈیگو ایر لائنس کی جانب سے مدد فراہم کی جارہی ہے ۔ یہ کام 2024 تک مکمل ہوں گے ‘ ۔ لینڈ اسکیپ آرکیٹکٹ ایم شہیر 2013 میں اس کے آغاز سے اس پراجکٹ پر توجہ دے رہے ہیں اور ماہر کاریگر چونے اور پتھر کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے کام انجام دیا ۔ اس پراجکٹ میں اس قدیم اسٹرکچرس کے مرمتی کام اور ان کی تزئین کے لیے روایتی میٹرئیلس کے استعمال پر زور دیا گیا ہے ۔ 106 ایکڑ کی اس جگہ کو تین زونس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ کور آرکیالوجیکل ایریا ، وزیٹر فسیلیٹی ایریا اور ایک بائیو ڈائیورسٹی زون ، بائیو ڈائیورسٹی زون میں گھنی جھاڑی ہے اور 2014 سے تمام درختوں کا خاکہ بنایا گیا اور ایک منصوبہ بند انداز میں نئے پودے لگائے جارہے ہیں ۔ جب اس کی تکمیل ہوگی تو یہ مقام شہر میں ایک اہم سیاحتی مقام ہوگا اور سیاحوں کو راغب کرے گا ۔ نندا نے کہا کہ ان تمام یادگار مقامات کا تحفظ ، ان کی مرمت اور تزئین کے ساتھ لینڈ اسکیپ کی بحالی سے اس سائٹ کو ورلڈ ہیرٹیج سائٹ کا مقام حاصل ہونے میں مدد ملے گی اور اسے دیکھنے کے لیے سال میں لاکھوں لوگ حیدرآباد آئیں گے ۔۔