گنجان آبادی اور غریب بستیوں میں ہوم آئیسولیشن ناممکن

   

غریب افراد کیلئے دشواریاں، حکومت کی سطح پر آئسولیشن سنٹرس کے قیام کا مطالبہ
حیدرآباد۔ سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس میں کورونا مریضوں کیلئے بستروں کی فراہمی میں دشواریوں کو دیکھتے ہوئے ماہرین کورونا کے علامات کے بغیر پائے جانے والے مریضوں کو ہوم آئسولیشن کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن شہر میں گنجان آبادی و غریبوں و متوسط طبقات کے چھوٹے مکانات میں ہوم آئسولیشن ممکن نہیں ۔ گنجان آبادی والے علاقوں میں زیادہ مکانات چھوٹے ہیں اور افراد خاندان کی تعداد زیادہ ہے ایسے میں کورونا کے ابتدائی مریضوں کو ہوم آئسولیشن کی فراہمی دشوار مرحلہ ہے۔ اگر انہیں ہوم آئسولیشن کے نام پر گھر بھیج دیا جائے تب بھی وہ آئسولیشن میں نہیں رہ سکتے۔ چھوٹے گھر اور افراد خاندان کا زیادہ ہونا اہم رکاوٹ ہے۔ ہوم آئسولیشن والے شخص کیلئے علحدہ کمرہ اور اس کیلئے علحدہ باتھ روم کی فراہمی ممکن نہیں۔ لہذا زیادہ تر مریض ہوم آئسولیشن کے بجائے حکومت کے آئسولیشن سنٹرس میں قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کئی مریضوں نے شکایت کی کہ ان کے مکانات میں علحدہ کچن اور باتھ روم کی سہولت نہیں اور بچوں کو مشتبہ مریض سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ ان حالات میں حکومت کو آئسولیشن مراکز میں اضافہ کرنا چاہیئے تاکہ چھوٹے گھر و بڑے خاندان والے افراد کو سہولت ہو۔ گاندھی ہاسپٹل کے ڈاکٹرس نے بتایا کہ ایک طرف کیسس میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف ابتدائی علامات کے حامل افراد ہوم آئسولیشن کیلئے تیار نہیں۔ دواخانوں میں صرف سیریس مریضوں کو شریک کرنے کی ہدایت ہے لہذا ہوم آئسولیشن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ حکام کی جانب سے ہاسپٹل میں بستر کی فراہمی کے بجائے ہوم آئسولیشن کے فیصلہ کے نتیجہ میں گھروں میں وائرس دوسروں کو متاثر کررہا ہے۔ شہر کے کئی سلم اور غریب بستیاں ایسی ہیںجہاں ایک یا دو کمروں کے مکانات میں خاندان زندگی بسر کررہا ہے۔ حکومت نے گچی باؤلی اسٹیڈیم کو کوویڈ ہاسپٹل میں تبدیل کیا لیکن عملے کی کمی کے نتیجہ میں آج تک ہاسپٹل نے کارکردگی کا آغاز نہیں کیا ہے۔