گنڈی پیٹ میں بھودان بورڈ کی اراضی کے رجسٹریشن کو روکنے ہائی کورٹ کی ہدایت

   


سرکاری عہدیداروں کی ملی بھگت کی شکایت، پروفیسر پرشوتم ریڈی کی درخواست پر فیصلہ

حیدرآباد۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور رجسٹریشن عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ رنگاریڈی ضلع کے گنڈی پیٹ منڈل میں واقع بھودان بورڈ کی اراضی کا رجسٹریشن نہ کیا جائے۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے عثمانیہ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر کے پرشوتم ریڈی کی جانب سے دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست پر عبوری احکامات جاری کئے ہیں۔ درخواست میں عدالت سے اپیل کی گئی کہ وہ اراضی کے تحفظ کیلئے حکومت کو ہدایت دے۔ درخواست گذار کے وکیل نے شکایت کی ہے کہ بھودان بورڈ اور ریوینو کے علاوہ رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے ملی بھگت کے ذریعہ بھودان اراضی کے رجسٹریشن کی اجازت دے دی ہے اور اراضی کو پلاٹس میں منتقل کیا گیا ہے۔ عدالت نے ریوینو اور رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے علاوہ بھودان بورڈ کے عہدیداروں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی اور اندرون چار ہفتے جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ درخواست گذار نے کہا کہ جے ملا ریڈی اور 8 دوسرے 29 ایکر اراضی کے مالک ہیں جنہوں نے نومبر 1955 ء میں بھودان تحریک کو یہ اراضی بطور عطیہ دی تھی۔ عہدیداروں کو اراضی کے دستاویزات کی پیشکشی کے باوجود تحفظ کے اقدامات نہیں کئے گئے۔ بھودان بورڈ کے وکیل نے اراضی کا موقف پیش کرنے کیلئے عدالت سے وقت مانگا ہے۔ درخواست گذار نے اندیشہ ظاہر کیا کہ عہدیدار اور ناجائز قابضین کے درمیان ملی بھگت ہے۔ محکمہ مال کے وکیل نے بتایا کہ بھودان اراضی کے بارے میں ریوینو ریکارڈ میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔