’گنڈی پیٹ کا پانی‘ قدیم کہاوت کا سوشل میڈیا پر پھر چرچا

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ 25 جولائی (سیاست نیوز) قدیم کہاوت ’گنڈی پیٹ کا پانی‘ کا سوشل میڈیا پر پھر چرچہ ہورہا ہے جبکہ عہدیداروں نے دس سال بعد گنڈی پیٹ کے دروازے کھول کر فاضل پانی کو چھوڑا ہے۔ گنڈی پیٹ نام سے مشہور عثمان ساگر عوام کے دلوں میں منفرد مقام رکھتا ہے جو اس کے پانی کی شفا بخش خصوصیات کی قسم کھاتے ہیں۔ اس ذخیرہ آب کی تعمیر نظام ششم میر محبوب علی خان نے 1908 کی طغیانی کے بعد کروائی تھی۔ کئی مشہور شخصیتوں بشمول ٹالی ووڈ اداکار ناگرجنا اکینینی نے بھی اس پر اظہارخیال کیا ہے۔ گنڈی پیٹ کبھی شہر میں پینے کے پانی کی سربراہی کا واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ شہر میں پانی کی سربراہی کیلئے مانجرا ڈیم اور دیگر پراجکٹس کی تعمیر سے قبل گنڈی پیٹ ہی واحد ذریعہ تھا۔ اس سے کئی دہوں تک شہر میں پانی کی ضرورت پوری ہوتی رہی ہے اور عہدیدار اب بھی اس سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ ایک مشہور کہاوت ہے ’جو بھی گنڈی پیٹ کا پانی پیا، حیدرآبادی ہوگیا‘‘ اس کہاوت سے گنڈی پیٹ کے پانی کی اہمیت اجاگرہوتی ہے اور اب بھی لوگ بالخصوص پرانے حیدرآبادی اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہیکہ گنڈی پیٹ کا پانی کئی بیماریوں کیلئے شفا بخش ہوتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہیکہ جو کوئی گنڈی پیٹ کا پانی پیتا ہے وہ یہاں بس جاتا ہے۔ دراصل علحدہ تلنگانہ تحریک کے دوران سیاستدانوں نے حیدرآبادی کی تعریف کرنے میں اس کہاوت کا استعمال کیا تھا۔