گنگا جمنا اسکول پر چلا بلڈوزرسیاست نے میرے خاندان کو تباہ کردیا

   

جیل میں قید خاتون پرنسپل کے شوہر کا کرب
بھوپال : مدھیہ پردیش کے بھوپال میں واقع گنگا جمنا اسکول کے ایک پوسٹر جس میں غیرمسلم طالبات نے اسکارف پہنا تھا پر جاری تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس معاملہ میں اب اسکول کی پرنسپل افشاں شیخ، استاد انس اطہر اور ایک سکیورٹی گارڈ رستم علی کو گرفتار کیا گیا، ان پر غیرمسلم طالبات کو اسکارف پہننے پر مجبور کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔اس معاملہ میں حکومت کی جانب سے بھی انتہائی سخت رخ اپنایا جارہا ہے۔ اسکول کی عمارت پر بلڈوزر بھی چلایا گیا اور عمارت کو منہدم کیا گیا۔ دموہ میونسپل اتھارٹی نے اسکول کے احاطے میں تعمیر کی گئی نئی عمارت کی پہلی منزل سے مبینہ تجاوزات کو ہٹانے کا دعویٰ کیا ہے۔بلڈوزر کی کارروائی کے دوران مقامی لوگوں نے سخت احتجاج کیا اور انہدام کی کاروائی کو روکنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں وہاں سے ہٹادیا۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے قبل ازیں گنگا جمنا اسکول کے رجسٹریشن کو بھی منسوخ کردیا تھا۔ اسکول کی پرنسپل افشاں کے شوہر شیخ اقبال نے اہلیہ کی گرفتاری پر اپنے شدید احساسات کا اظہار کیا۔ وہ عدالت کے باہر رو پڑے اور کہا کہ ’سیاست نے میرے خاندان کو تباہ کر دیا‘۔بلڈوزر کاروائی سے متعلق ایک عہدیدار نے بتایا کہ اسکول کے احاطہ میں واقع نئی عمارت کی پہلی منزل سے غیر قانونی تعمیرات کو ہٹادیا جبکہ مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ ہم اسکول کو گرانے آئے ہیں۔