مسئلہ کو نیشنل ہیومن رائیٹس کمیشن سے رجوع کیا جائے ۔ متوفیوں کے حقوق کے تحفظ کی پالیسی ہونا چاہئے
نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آج اُس عرضی کو سماعت کیلئے قبول کرنے سے انکار کردیا جو ایسی ہدایات جاری کرنے کی استدعا کے ساتھ پیش کی گئی تھی کہ متوفیوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی پالیسی بنائی جائے جس میں آخری رسومات کے لئے حد سے زائد چارجس وصول کرنے پر روک لگائی جائے ، کوویڈسے فوت ہونے والوں کی تجہیز و تکفین میں ممکنہ رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور ایمبولینس سرویس کا بھی بے نقص انتظام یقینی بنایا جائے ۔ جسٹس ناگیشور راؤ اور جسٹس ہیمنت گپتا کی بنچ نے درخواست گذار کے کونسل کو نیشنل ہیومین رائیٹس کمیشن ( این ایچ آر سی ) سے رجوع ہونے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو مسئلہ اُٹھایا ہے وہ واقعی سنگین معاملہ ہے جس پر ہمیں اتفاق ہے ، لیکن خوش قسمتی سے اب وہ صورتحال باقی نہیں رہی ہے ۔ آپ چاہیں تو قومی انسانی حقوق کمیشن سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ این ایچ آر سی ایسے مسائل سے نمٹے گا ۔ سماعت کے دوران درخواست گذار کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ نے استدلال پیش کیا کہ دریائے گنگا میں نعشیں بہنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس پس منظر میں متوفیوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی کوئی پالیسی ہونا چاہئے ۔ کونسل نے استدلال پیش کیا کہ درخواست گذار کی آرگنائزیشن نے یہ مسئلہ ہائیکورٹ کے پاس اُٹھایا لیکن ابھی تک ضروری اقدامات نہیں ہوئے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ این ایچ آر سی سے ردعمل کیلئے کہا گیا تھا ۔ آپ این ایچ آر سی سے رجوع ہوں ۔ آپ کتنے فورم کے پاس جائیں گے ؟ آپ پہلے ہی ہائیکورٹ سے رجوع ہوچکے ہوں ۔ ہائیکورٹ نے ایک ہدایت دی ہے ۔ این ایچ آر سی نے مداخلت بھی کی ہے ۔ بنچ نے زور دیا کہ اس عرضی میں اُٹھائے گئے مسائل واقعی سنگین نوعیت کے ہیں اور این ایچ آر سی مناسب فورم ہے کہ اس معاملہ کا جائزہ لے ۔ غیرسرکاری تنظیم (ین جی او )ٹرسٹ ڈسٹریس مینجمنٹ کلکٹیو نے یہ عرضی داخل کرتے ہوئے مخصوص نوعیت کی قانون سازی پر زور دیا تھا جس سے متوفیوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے ۔ عرضی میں عدالت عظمیٰ سے یہ استدعا بھی کی گئی تھی کہ تمام ریاستوں اور مرکزی علاقوں کو رہنمایانہ خطوط جاری کئے جائیں کہ آخری رسومات اور ایمبولینس سرویس کیلئے شرحوں کا تعین کریں۔ نیز ان کی عدم تعمیل پر تعزیری کارروائی کی گنجائش بھی رکھی جائے اور یہ قانونی گنجائش جلد از جلد فراہم کی جائے ۔