حیدرآباد۔27۔ستمبر۔(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں گنیش وسرجن جلوس اور میلاد النبیؐ کے موقع پر امن و امان کی برقراری کیلئے متعدد اقدامات کرتے ہوئے میلاد جلوس کی تاریخ کو تبدیل کیا گیا اس کے باوجود اشرار کی جانب سے گنیش وسرجن کے موقع پر حالات کو بگاڑنے کی سازش کی جار ہی ہے تاکہ ریاست بھر میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دی جاسکے۔ مسلم نوجوانوں بالخصوص والدین اور سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ 28 ستمبر کو گنیش وسرجن جلوس کے موقع پر اپنے نوجوانوں کو گھروں سے نکلنے سے باز رکھیں تاکہ کسی بھی سازش کو کامیاب ہونے نہ دیا جائے ۔ آئندہ ماہ کے اوائل میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے اعلامیہ کی اجرائی متوقع ہے ایسے میں شرپسند عناصر عوام کو فرقہ وارانہ خطوط پر منقسم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ شرپسندوں کی اس کوشش کو ناکام بنانے کیلئے ضروری ہے کہ عوام بالخصوص مسلم نوجوانوں کو کسی بھی طرح کی شرانگیزی یا اکسانے کا شکار ہونے کے بجائے برقراری امن کو یقینی بنانے کیلئے گھروں میں محافل درود شریف و میلاد کا اہتمام کرنا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ کے ان اضلاع میں جہاں کسی بھی تہوار کے دوران ماحول کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ان فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقوں پر محکمہ پولیس کی جانب سے خصوصی نظر رکھی جار ہی ہے ۔ جلوس کے دوران کسی بھی طرح کی شرپسندی کو پولیس نے آہنی پنجہ سے کچلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مسلمانوںنے میلاد النبیؐ کے جلوس و جلسوں کو اسی دن منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ پولیس اور حکومت کیلئے راحت کا سامان مہیا کیا ہے۔ 28 ستمبر کو خصوصی محافل درود و دعائیہ اجتماعات منعقد کرتے ہوئے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں اور امن و امان کی برقراری کو یقینی بنانے میں اپنا ذمہ دارانہ کلیدی کردار ادا کریں۔