گنیش وسرجن سے متعلق احکامات پر نظرثانی سے تلنگانہ ہائیکورٹ کا انکار

   

ایک سال سے حکومت کی خاموشی پر برہمی،حسین ساگر کو آلودگی سے بچانے کی ضرورت، عدالتی فیصلہ کو چیلنج کرنے کا اختیار
حیدرآباد۔13 ۔ستمبر (سیاست نیوز) حسین ساگر میں گنیش وسرجن کے سلسلہ میں حکومت کو تلنگانہ ہائی کورٹ میں آج اس وقت جھٹکہ لگا جب عدالت نے اپنے احکامات میں ترمیم یا دستبرداری سے انکار کردیا ہے ۔ کارگزار چیف جسٹس ایم ایس رام چندر راو اور جسٹس ونود کمار پر مشتمل ڈیویژن بنچ پر آج حکومت کی جانب سے داخل کردہ درخواست نظر ثانی پر ہنگامی سماعت ہوئی ۔ حکومت اور جی ایچ ایم سی نے گنیش وسرجن کے سلسلہ میں پابندیوں پر عمل آوری کے لئے مہلت طلب کی اور کہا کہ آئندہ سال وسرجن کے موقع پر عدالت کی ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ نے حسین ساگر میں پلاسٹر آف پیرس سے تیار کردہ مجسموں کے وسرجن پر پابندی عائد کردی اور حسین ساگر کے اطراف مصنوعی تالابوں کی تیاری کی ہدایت دی تھی تاکہ مجسموں کا ملبہ فوری طور پر صاف کیا جاسکے اور حسین ساگر آلودگی سے محفوظ رہے۔ کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار نے درخواست نظر ثانی داخل کی ۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے کہا کہ موجودہ صورتحال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے عدالت اپنے احکامات میں ترمیم کرے۔ کارگزار چیف جسٹس نے ریمارک کیا کہ صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے اقدامات کرنا عہدیداروںکی ذمہ داری ہے ، عدالت کی نہیں۔ عدالت نے پوچھا مصنوعی تالابوں کی تیاری میں دشواریوں کے بارے میں حکومت نے سابق میں کیوں نہیں بتایا ۔ عدالت کے فیصلہ کے بعد اب یہ خیال کیوں آیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ قوانین پر عمل آوری کو یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اب حکومت کی مرضی ہے کہ وہ قانون پر عمل کریں یا اس کی مخالفت کرے ۔ عدالت نے اپنے احکامات میں ترمیم سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر حکومت کو کوئی اعتراض ہو تو وہ فیصلہ کے خلاف اپیل کرسکتی ہے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ حسین ساگر کو آلودہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ عدالت نے پلاسٹر آف پیرس سے تیار کردہ مجسموں کے وسرجن کے لئے علحدہ انتظامات کرنے کی حکومت کو ہدایت دی ۔ حکومت کی جانب سے ایک سال کی مہلت کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال یہ احکامات جاری کئے تھے، پھر بھی حکومت نے ایک سال تک کیوں خاموشی اختیار کی۔ عدالت نے ایک سال کے دوران احکامات پر عمل نہ کرنے پر ناراضگی جتائی ۔ عدالت نے کہا کہ سابق میں حکومت کی جانب سے تین حلفنامے داخل کئے گئے تھے لیکن ان میں دشواریوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ عدالت نے کہا کہ تمام دشواریوں کا حکومت کو علم ہے، پھر بھی وہ خاموش کیوں ہے ۔ R