گنیش وسرجن پر آج ہائی کورٹ میں حکومت کی درخواست نظر ثانی

   

مصنوعی تالابوں کی تیاری ممکن نہیں، جاریہ سال موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی اپیل
حیدرآباد۔/12 ستمبر، ( سیاست نیوز) حکومت نے حسین ساگر میں گنیش وسرجن سے متعلق ہائی کورٹ کے احکام پر نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر انیمل ہسبینڈری سرینواس یادو نے بتایا کہ حسین ساگر میں وسرجن پر ہائی کورٹ کا فیصلہ گنیش فیسٹول کے ایک دن قبل آیا اور عمل کیلئے حکومت کے پاس مناسب وقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ میں درخواست نظر ثانی داخل کرکے مہلت کی اپیل کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ کل حکومت ہاوز موشن پٹیشن دائر کریگی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ سے وسرجن کی موجودہ روایت کو برقرار رکھنے کی اپیل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حسین ساگر میں پلاسٹر آف پیرس کی مورتیوں کے وسرجن کے خلاف احکام جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فیسٹول کے سلسلہ میں مورتیاں منڈپوں میں پہنچ چکی ہیں۔ حکومت اور عوام کیلئے فوری متبادل انتظامات کرنا ممکن نہیں ہے۔ مصنوعی کنٹوں اور تالابوں کی تیاری مشکل ہے لہذا ہائی کورٹ کو صورتحال کی نزاکت محسوس کرکے موجودہ حالات کو جاری رکھنے کی اجازت دینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پہلے احکامات جاری کئے جائیں تو حکومت قدم اٹھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کو وسیع القلبی کے ساتھ فیصلہ سنانا چاہیئے۔ سرینواس یادو نے کہا کہ ماحولیات کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسرجن کا عمل 48 گھنٹوں میں مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں گنیش تہوار جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی ہدایت پر ہائی کورٹ میں درخواست نظر ثانی داخل کی جائے گی۔ حسین ساگر کے اطراف اور شہر میں مصنوعی پانڈس تیار کرنا آسان کام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھکتوں اور منتظمین کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے فیصلہ دینا چاہیئے۔ گنیش تہوار میں لاکھوں افراد شرکت کرتے ہیں اور ملک بھر میں حیدرآباد کا تہوار اپنی علحدہ شناخت رکھتا ہے۔R