گنیش وسرجن کے موقع پر عوام کے جمع ہونے کو روکنے ہائی کورٹ کی ہدایت

   

Ferty9 Clinic

گھر میں پوجا کی ترغیب دی جائے، یکم ستمبر تک پولیس اور بلدیہ سے رپورٹ طلب
حیدرآباد۔18 ۔اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حسین ساگر میں گنیش وسرجن کے سلسلہ میں حکومت کے فیصلہ سے واقف کرانے کی پھر ایک مرتبہ ہدایت دی ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ وسرجن کے موقع پر عوام کے ہجوم کی شکل میں جمع ہونے سے روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ہائی کورٹ میں جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد پولیس کمشنر کو یکم ستمبر سے قبل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ رپورٹ کی عدم پیشکشی کی صورت میں سینئر عہدیداروں کو ہائی کورٹ میں حاضر ہونا پڑے گا ۔ حسین ساگر میں گنیش اور درگا کی مورتیوں کے وسرجن پر پابندی عائد کرنے کیلئے ایڈوکیٹ وینو مادھو نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی ہے ۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ عوام سے اپیل کی جائے گی کہ وہ اپنے گھروں میں مٹی کے گنیش مورتی رکھ کر پوجا کریں۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ عوام کو مشورہ نہیں بلکہ واضح طور پر ہدایات جاری کی جائیں۔ عدالت نے کہا کہ مذہبی جذبات کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن عوام کی صحت کو خطرہ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ جی ایچ ایم سی اور کمشنر پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت یکم ستمبر کو مقرر کی گئی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ کورونا وباء کے پیش نظر عوام کو گھروں میں مٹی سے بنی ہوئی مورتیاں رکھنے کی ترغیب دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ گنیش وسرجن کے موقع پر کووڈ قواعد پر پابندی کیلئے اقدامات کئے جائیں گے جبکہ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ حکومت کی جانب سے پابندی عائد کرنا ممکن نہیں ہے۔ لہذا عدالت کو احکامات جاری کرنی چاہئے۔R