گنیش کا بہیمانہ قتل بابا صاحب کے آئین پر سیدھا حملہ

   

بی جے پی حکومت دلت مخالف‘ ہریانہ قتل واقعہ پر راہول گاندھی کی تنقید

نئی دہلی ۔17؍جولائی ( ایجنسیز )بی جے پی حکمراں ریاست ہریانہ میں گنیش والمیکی نامی دلت شخص کے قتل معاملہ نے طول پکڑ لیا ہے۔ کانگریس قائدین لگاتار بی جے پی حکومت پر حملہ کر رہے ہیں اور قتل کو ’منوادی سوچ‘ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔گنیش والمیکی کی موت کا معاملہ سامنے آنے کے بعد لوک سبھا میں اپوزیشن قائد راہول گاندھی نے بھی بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جب اقتدار منووادی سوچ کی گود میں بیٹھتی ہے تو دلتوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں بچتی۔ ہریانہ کے ہسار میں دلت نوجوان گنیش والمیکی کا قتل اور اس کے ارکان خاندان کے ساتھ ہوئی بربریت محض ایک جرم نہیں ہے، یہ بی جے پی اورآر ایس ایس کے منوادی نظام کا وہ گھناؤنا چہرہ ہے جو آج ہندوستان میں بہوجنوں کی زندگی کو سستا سمجھتا ہے، جو انھیں مساوات اور احترام کا حقدار نہیں مانتا۔راہول گاندھی نے کہا کہ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ 11 سالوں میں دلتوں، قبائلیوں اور اقلیتوں پر مظالم کے معاملے بہت بڑھ گئے ہیں۔ ایسا کیوں؟ کیونکہ اقتدار میں بیٹھی بی جے پی نے تفریق کا نقاب پہن کر تشدد کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔مودی حکومت نے نہ صرف ان مظالم پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے بلکہ آئینی اداروں کو کمزور کر کے پولیس اور انتظامیہ کو ایسے جرائم کا اسلحہ اور جرائم پیشوں کی ڈھال بنا دیا ہے۔ مودی کے دور میں دلت ہونا، غریب ہونا، محروم طبقہ سے ہونا ایسا لگتا ہے جیسے جرم بن گیا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ گنیش والمیکی کی موت صرف ایک انسان کا نہیں، آئین کا قتل ہے، بابا صاحب کے خوابوں کا قتل ہے۔