آرکائیول میاپ
کنزرویشن کی اصطلاح میں ، اس عمارت کی حالت اچھی ہے ۔ یہ جلد گرنے والی نہیں ہے ۔ یہ تعمیری اعتبار سے مضبوط ہے ۔ اس عمارت کو منہدم کرنے کے بجائے اس کے قریب میں ایک نئی عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے اور اس ہیرٹیج بلڈنگ پر اس کے تحفظ کیلئے کام کیا جاسکتا ہے ۔ ہیرٹیج کے ایک جہدکار نے یہ بات کہی ۔ اسکول اتھاریٹیز کے پاس موجود آرکائیول میاپ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ 25 ایکرس پر پھیلی ہوئی ہے ۔ میاپ بتاتے ہوئے اسکول کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’ اس میں کوئی سڑک نہیں تھی ۔ یہ پور ا علاقہ ایک تعلیمی کامپلکس تھا ‘‘ ۔ مدرسہ عالیہ کی ایک تاریخ ہے اس کے طلبہ میں نظام ہفتم عثمان علی خان ، مہاراجہ کشن پرشاد ، پاکستانی کرکٹر آصف اقبال شامل تھے ۔
مدرسہ عالیہ کومنہدم کرنے کی تیاری !
حیدرآباد : سابق شاہی گھرانوں کے بچوں کی تعلیم کیلئے 1872 ء میں قائم کیا گیا اسکول ۔ مدرسہ عالیہ کی موجودہ عمارت کو منہدم کرکے ایک نئی عمارت تعمیر کی جانے والی ہے ۔ اس قدیم عمارت کو ’جسے اب عالیہ ہائی اسکول فار بوائز کہا جاتا ہے ‘ مرحلوں میں چھوڑدیا گیا ہے اور اس ہیرٹیج عمارت سے صرف لائبریری ، پرنسپل کا چیمبر اور لیباریٹری ہی کام کررہے ہیں ۔ جب اس تبدیلی کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹیچرس یونین کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’اسے چھوڑ دیئے جانے کے بعد سے ایک نئی عمارت کے بارے میں کافی افواہیں پھیلی ہیں ۔ لیکن چند ہفتے قبل عہدیداروں نے یہاں آکر اس بلڈنگ کا میجرمینٹ کیا جس سے ہمارے اندیشوں کو تقویت ملی کہ اس عمارت کو منہدم کیا جائے گا ‘‘ ۔ ہر سال اس اسکول کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے اس بلڈنگ کی مضبوطی کے بارے میں ایک نوٹس حاصل ہوتی ہے ۔ دو سال قبل اس بلڈنگ کے سیدھے ونگ میں ہائی سیلنگ گرگئی تھی ۔ اسکول پرنسپل فریسہ اسماء نے کہا کہ ’’یہ عمارت مضبوط ہے ، اس کی تعمیر گرانائٹ بلاکس سے کی گئی ہے ‘ اس کی دیواریں تقریباً 3 فٹ چوڑی ہیں ۔ ہاں بعض مقامات پر اس میں پجر ہورہا ہے ۔ لیکن اسے آسانی سے بند کیا جاسکتا ہے ۔ نئی بلڈنگ اس کے اطراف میں بنائی جاسکتی ہے ‘‘ ۔ انیسویں صدی میں پتھر ، اینٹ ، اسٹیل اور ری انفورسڈ کانکریٹ کے مکس سے بنائی گئی اس عمارت میں جیک آرک چھت ہے ۔ جسے بڑے اسٹیل گرڈرس کا سپورٹ ہے ۔ اس کی صحیح انداز میں دیکھ بھال نہ ہونے ، لیکیج اور ویجیٹل گروتھ کی وجہ ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں زنگ آلود اسٹیل کی پٹیاں گرنے کے دہانے پر ہیں ۔ یہ عمارت گریڈ III ہیرٹیج اسٹرکچر فہرست میں شامل ہے ۔ حکومت کو تاریخی آثار کو محفوظ رکھنے کی توفیق نہیں ہورہی ہے۔ مدرسہ عالیہ کا حیدرآباد کی تاریخ سے اٹوٹ رشتہ ہے۔ دیگر ملکوں میں تاریخی عمارتوں کا تحفظ اور ان کی تزئین نو دیکھ بھال کو فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان میں بالخصوص حیدرآباد کی تاریخی عمراتوں کو حکمرانوں نے بُری طرح نظرانداز کردیا نتیجہ میں یہ عمارتیں دھیرے دھیرے بوسیدہ ہونے لگی ہیں۔ ان کے بوسیدہ ہونے کا بہانہ کرکے انھیں مسمار کیا جاتا ہے جو ہیرٹیج کے اُصولوں کو مسمار کرنے کے مترادف ہے۔