شہیدان تلنگانہ یادگار جانے سے روک دیا گیا، چیف منسٹر کے سی آر کو حلف لینے کا چیلنج
حیدرآباد۔/17 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو پولیس نے آج اس وقت حراست میں لے لیا جب انہوں نے گن پارک پر شہیدان تلنگانہ کی یادگار پہنچنے کی کوشش کی۔ ریونت ریڈی نے دو دن قبل چیف منسٹر کے سی آر کو چیلنج کیا تھا کہ انتخابات میں دولت اور شراب کے استعمال کے بغیر مہم چلائیں گے۔ ریونت ریڈی نے کے سی آر کو شہیدان تلنگانہ یادگار پہنچ کر حلف لینے کا چیلنج کیا تھا جس کے مطابق ریونت ریڈی اپنے حامیوں کے ساتھ گن پارک پہنچے جہاں پولیس نے شہیدان تلنگانہ یادگار جانے سے روک دیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہے لہذا گن پارک جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ریونت ریڈی اور پولیس عہدیداروں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی اور ریونت ریڈی نے جب زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی تو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ریونت ریڈی کو پارٹی ہیڈکوارٹر گاندھی بھون میں چھوڑ دیا گیا۔ اس موقع پر کانگریس کے قائدین روہن ریڈی، این ایس یو آئی کے صدر بی وینکٹ اور نامپلی اسمبلی حلقہ کے امیدوار فیروز خاں موجود تھے۔ کارکنوں اور پولیس کے درمیان بحث و تکرار اور دھکم پیل کے نتیجہ میں صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔ ریونت ریڈی کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ٹریفک کو بحال کردیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ چیف منسٹر کے سی آر کے اس الزام کے جواب میں چیلنج کررہے ہیں جس میں انہوں نے کانگریس پر دولت اور شراب کے استعمال کا الزام عائد کیا تھا۔ دونوں قائدین شہیدان تلنگانہ کی یادگار کے پاس حلف لیں تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کا فیصلہ منظر عام پر آئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے فرار کا راستہ اختیار کیا ہے اور وہ حلف لینے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کا مکمل انحصار دولت اور شراب کے استعمال پر ہے۔ ریونت ریڈی کی آمد کے موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں کانگریس کارکن بھی جمع ہوگئے۔